جوش ملیح آبادی ۔۔۔ ادھر مذہب ادھر انساں کی فطرت کا تقاضا ہے

ادھر مذہب ادھر انساں کی فطرت کا تقاضا ہے وہ دامانِ مہِ کنعاں ہے یہ دستِ زلیخا ہے ادھر تیری مشیت ہے ادھر حکمت رسولوں کی الٰہی آدمی کے باب میں کیا حکم ہوتا ہے یہ مانا دونوں ہی دھوکے ہیں رندی ہو کہ درویشی مگر یہ دیکھنا ہے کون سا رنگین دھوکا ہے کھلونا تو نہایت شوخ و رنگیں ہے تمدن کا معرف میں بھی ہوں لیکن کھلونا پھر کھلونا ہے مرے آگے تو اب کچھ دن سے ہر آنسو محبت کا کنارِ آب رکنا باد و گلگشتِ مصلےٰ…

Read More

اعجاز دانش ۔۔۔ جو مادرِ گیتی کا وفادار نہیں ہے

جو مادرِ گیتی کا وفادار نہیں ہے وہ شخص ہے فنکار ، قلمکار نہیں ہے دعویٰ ہے اگر مجھ سے محبت کا تجھے بھی مجھ کو بھی ترے پیار سے انکار نہیں ہے یہ غم کی کہانی میں کسے جا کے سناؤں دشمن ہیں بہت کوئی مرا یار نہیں ہے عاشق تو بنا پھرتا ہے ہر شخص یہاں پر جاں دینے کو لیکن کوئی تیار نہیں ہے میں جانتا ہوں میرے خدا تیرے علاوہ دینا میں مرا کوئی بھی غمخوار نہیں ہے بے خوف گزر جاؤں گا اس راہ گزر…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ زیرِ تعمیر ہے دُنیا کے ستائے کا مکاں

زیرِ تعمیر ہے دُنیا کے ستائے کا مکاں ڈھونڈتا پھرتا ہُوں جنت میں کرائے کا مکاں یوں تو مِلتی ہیں ہزاروں ہی مقلد گاہیں شہر بھر میں نہیں اِک صاحبِ رائے کا مکاں اپنی پرچھائیں میں بھی سر نہ چھپائیں لیکن دھوپ میں دیکھنا پڑ جاتا ہے سائے کا مکاں اُس کی آنکھوں میں بہت دیر رہے ہیں لیکن راس آیا نہ کبھی ہم کو پرائے کا مکاں ہم سے گمناموں کو رہتی ہے یہ حسرت خاور ہو میسر ہمیں شہرت علی رائے کا مکاں

Read More

عقیل عباس ۔۔۔ اشوک و پورس و گوتم کی سرزمین سے میں

اشوک و پورس و گوتم کی سرزمین سے میں حضور آپ کا خادم ہوں منکرین سے میں سنہری جالیاں چھوتا ہوں اور سوچتا ہوں ملے بغیر چلا جائوں گا مکین سے میں قسم ہے شانِ کریمی کی کبریائی کی لپٹ کے رو نہیں پڑتا مرے امین سے میں حضور آپ کی سیرت مطالعہ ہے مرا حضور ڈرتا نہیں ہوں کسی لعین سے میں حضور امتیں جس روز ساری جمع ہوئیں تو صاف جان لیا جائوںگا جبین سے میں اڑن کھٹولے پہ نکلا حجازِ اقدس کو فلک پہ آ گیا ہوتا…

Read More

ثمر جمال ۔۔۔ جو کوئی وقعتِ تجدید سمجھتا ہی نہیں

جو کوئی وقعتِ تجدید سمجھتا ہی نہیں میں اُسے قابلِ تقلید سمجھتا ہی نہیں آج کے دور کا انسان بہت ضدی ہے کُھل کے کرتے رہو تنقید، سمجھتا ہی نہیں وہ ترے دل میں چُھپی بات کہاں سمجھے گا؟ جو ترے لفظوں کی تعقید سمجھتا ہی نہیں کوئی بھی بات طوالت سے بُری لگتی ہے میں کسی قسم کی تمہید سمجھتا ہی نہیں تیرے ہونے کا گماں، دل کو جواں رکھتا ہے تو کہ اِس بات کو بے دید! سمجھتا ہی نہیں اُن کو تہوار مبارک جنہیں سب حاصل ہے…

Read More