عدیم ہاشمی ۔۔۔ مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے

مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے زباں نے جسم کا کچھ زہر تو اگل ڈالا بہت سکون ملا تلخیٔ نوا سے مجھے رچا ہوا ہے بدن میں ابھی سرور گناہ ابھی تو خوف نہیں آئے گا سزا سے مجھے میں خاک سے ہوں مجھے خاک جذب کر لے گی اگرچہ سانس ملے عمر بھر ہوا سے مجھے غذا اسی میں مری میں اسی زمیں کی غذا صدا پھر آتی ہے کیوں پردۂ خلا سے مجھے میں جی رہا ہوں…

Read More

صفی لکھنوی … دیدہ اشکبار کیا کہنا

دیدہ اشکبار کیا کہنا واہ ابرِ بہار کیا کہنا حال جنت کا سن چکے واعظ اب اسے بار بار کیا کہنا اُڑ کے پہنچا کسی کے دامن تک آج میرا غبار کیا کہنا درد نے خوب دل کا ساتھ دیا واہ رے غم گسار کیا کہنا دل سے یادِ وطن صفی نہ گئی اے غریب الدیار کیا کہنا

Read More

حمایت علی شاعر

اس دشت پہ احساں نہ کر اے ابرِ رواں اور جب آگ ہو نم خوردہ تو اٹھتا ہے دھواں اور

Read More

ادیب سہارنپوری … بخشے پھر اس نگاہ نے ارماں نئے نئے

بخشے پھر اس نگاہ نے ارماں نئے نئے محسوس ہو رہے ہیں دل و جاں نئے نئے یوں قیدِ زندگی نے رکھا مضطرب ہمیں جیسے ہوئے ہوں داخلِ زنداں نئے نئے کس کس سے اس امانتِ دیں کو بچایئے ملتے ہیں روز دشمنِ ایماں نئے نئے راحت کی جستجو میں خوشی کی تلاش میں غم پالتی ہے عمرِ گریزاں نئے نئے مسجد میں اور ذکر بتوں کا جناب شیخ شاید ہوئے ہیں آپ مسلماں نئے نئے دم بھر دمِ اجل کو نہ حاصل ہوا فراغ ہوتے رہے چراغ فروزاں نئے…

Read More

ادا جعفری

وہ کیسی آس تھی ادا جو کو بہ کو لیے پھری وہ کچھ تو تھا جو دل کو آج تک کبھو ملا نہیں

Read More

ناظم علی خان ہجر

سیرت کسی کی خوب ہے صورت کسی کی خوب کوئی ہمارے دل میں ہے کوئی نظر میں ہے

Read More