یہ شعر ادا جعفری کی گہری داخلی بصیرت، نسائی وقار، اور شعری نفاست کا آئینہ دار ہے۔ شاعرہ نے یہاں محبت کے غیر اعلانیہ اظہار اور باطن کے آشوب کو چشمِ نم یعنی اشک آلود آنکھ کے استعارے میں سمو کر دل کی نرمی کو وقار کا پیرایہ عطا کیا ہے۔
Read MoreTag: شعر
راحت اندوری
شاعر نے خود کو اس درجہ تنہا، سرد اور بےحس پایا کہ وجود ہی کمبل بن گیا، جذبات کی گرمی مفقود ہو چکی۔
یہ مصرع ایک ایسے باطن کی ترجمانی ہے جہاں رضا، راحت اور رفاقت سب خواب ہو چکے ہوں۔
ندیم ملک ۔۔۔ دو غزلیں
ناز نخروں سے جو پلی ہوئی ہے اسی پاگل سے دل لگی ہوئی ہے پاؤں زخمی ہوئے ہیں پانی میں کیسی نادان زندگی ہوئی ہے آپ سے کوئی واسطہ نہیں تھا آپ نے پھر بھی بات کی ہوئی ہے شہر میں نام گونجتا ہے مرا آپ سے جب سے دوستی ہوئی ہے پھول ، اور سنگ و خشت ہیں یکجا آئنے میں نظر کری ہوئی ہے رنگ تتلی کے ہو گئے مدھم چاند پر آنکھ جم گئی ہوئی ہے میری چادر میں چھید تھے پھر بھی آپ نے سر پہ…
Read Moreنسیمِ سحر ۔۔۔۔ ذرا سوچ لو یہ
ذرا سوچ لو یہ ۔۔۔۔ جو تم نے سمیٹا نہیں مجھ کو اس زندگی میںجو میں روزہی اس طرح سے بکھرتا رہا تو تمہیں ایک زحمت بہت جلد کرنا پڑے گی ذرا سوچ لو یہ ، مری خاک کو تُم سمیٹو گی کیسے !
Read Moreڈاکٹر عزیز فیصل ۔۔۔ بھنور سے کہہ دو کہ دریا مرا محافظ ہے
بھنور سے کہہ دو کہ دریا مرا محافظ ہے میں ریگ زاد ہوں، صحرا مرا محافظ ہے اسے عدو کے عزائم میں کیا بتاؤں بھلا اسے خبر ہے وہ کتنا مرا محافظ ہے گزند کیسے اٹھاوں میں اس کے ہاتھوں سے یہ عشق سارے کا سارا مرا محافظ ہے جو دوسروں سے میں عزت سے پیش آتا ہوں یہ رنگ ڈھنگ، یہ جذبہ مرا محافظ ہے ہوں جس سے حالتِ جنگ وجدال میں فیصل حقیقتاً وہی خفیہ مرا محافظ ہے
Read Moreحمدِ باری تعالیٰ ۔۔۔۔ واجد امیر
کیسے مرے محدود سے وجدان میں آئے کیسے وہ بھلا عقل کے جُزدان میں آئے بے شک نہ کبھی وہ مری پہچان میں آئے کچھ عکس کبھی دیدۂ حیران میں آئے انسان اگر سب ترا انکار بھی کردیں کچھ فرق نہ اللہ تری شان میں آئے تشکیک کا دھبہ نہ لگے دل کے وَرق پر کیوں نقص زرا سا مرے ایمان میں آئے اِک خوف رگوں میں جو اُتارے ہے تکاثر اِک کیف الگ سورۂ رحمٰن میں آئے دیتا ہے تسلّی کوئی ان دیکھا مسیحا وسواس اگر کچھ دلِ نادان…
Read Moreراحت سرحدی ۔۔۔ کہیں بھی بامِ فلک پر کوئی ستارہ نہیں
کہیں بھی بامِ فلک پر کوئی ستارہ نہیں مجھے تو لگتا ہے یہ آسماں ہمارا نہیں مرے خیا ل میں وہ وقت رائگاں گزرا تمھارے حسن کے سائے میں جو گزارا نہیں اگرچہ ہوتی ہے ہر شے کی انتہا کوئی سرابِ عشق کا لیکن کہیں کنارہ نہیں جو وقت پڑنے پہ ڈھے جائے آپ سے پہلے وہ ایک بوجھ تو ہو سکتا ہے سہارا نہیں کسی کے تل کا بدل جا کے کہنا حافظ سے ہے کائنات ثمر قند اور بخارا نہیں یہ آئنہ ابھی پوری طرح نہیں ٹوٹا تجھے…
Read Moreنعمان فلک ۔۔۔ ویسے مالک سے یہ شکوہ تو نہیں بنتا ہے
ویسے مالک سے یہ شکوہ تو نہیں بنتا ہے نوجواں بیٹے کا مرنا تو نہیں بنتا ہے رب نے بتلایا کہ میں ہوں مرے موسیٰ ورنہ اس طرح پانی میں رستہ تو نہیں بنتا ہے روز کچھ خواب مری آنکھ میں مر جاتے ہیں تم یہ کیوں کہتے ہو؟ کتبہ تو نہیں بنتا ہے گر بناؤں تو اْمڈ آتی ہیں آنکھیں میری کینوس پر ترا چہرہ تو نہیں بنتا ہے دل بھی پاگل ہے، کہیں پر بھی مچل جاتا ہے ورنہ کچھ لوگوں پہ مرنا تو نہیں بنتا ہے
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی
دن منور ہیں چاندنی راتیں آپؐ ہی کی ہیں یہ مداراتیں سب اجالوں سے ہو گئے روشن نور افزا ہیں آپؐ کی باتیں روشنی آگئی زمانے میں دل میں اُتریں حضورؐ کی نعتیں سب سے محکم ہے آپؐ سے نسبت اور کچھ کام کی نہیں ذاتیں انؐ کے کسبِ کمال کی فہرست سب حدیثوں کی خوب تر باتیں میں ریاضِ نبیؐ کا باسی ہوں مجھ پہ خوشبو کی ہیں مداراتیں
Read Moreعقیدت ۔۔۔ صغیر احمد صغیر
محبت کا سکھا دیجے سلیقہ یا رسول اللہ مرے دل میں ہو مدحت کا اجالا یا رسول اللہ ابھی عشاق سی میری نہ صورت ہے نہ سیرت ہے غلامی کا کروں کیسے میں دعویٰ یا رسول اللہ مری ہر سانس ہی وقفِ درودِ پاک ہو جائے ثنا خوانی بنے میرا حوالہ یا رسول اللہ ہے مدت سے کسک دل میں مجھے در پر بلا لیجے مرے غم کا بھی ہو جائے مداوا یا رسول اللہ میں کاش ان کے زمانے میں اگر پیدا ہوا ہوتا بلانے پر میں کہتا: جی…
Read More