پرچھائی ۔۔۔۔ دستِ راست میں مو قلم تھامے وہ کینوس پر رنگوں کا جادو بکھیرنے میں مصروف تھی زلفیں کوتاہ تھیں انہیں پیشانی کے سامنے سے ہٹانے کی ضرورت اسے محسوس نہیں ہوئی۔ لال، پیلے، اور ہرے رنگوں کی آمیزش سے تصویر کے خد و خال بڑی نفاست سے ابھر رہے تھے میں نے خود کو اس کے قریب جانے سے روکے رکھا، کہیں یہ دخل اندازی اْس کی خلوت پر گراں نہ گزرے۔ تصویر کے نقش یکے بعد دیگرے سامنے آتے جا رہے تھے تیکھی ناک، لب لعل ،…
Read MoreTag: شعر
نسیمِ سحر ۔۔۔ ایک منٹ کی خاموشی
ایک منٹ کی خاموشی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( کئی سال پہلے پاکستان میں زلزلے میں مرنے والوں کی یاد میں عالمی فورم میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک منٹ کی خاموشی ان لوگوں کی یاد میں تھی جن کے اندر جا اتری موت کی گہری خاموشی جن کی ہستی پل بھر میں لمبی چُپ میں ڈوب گئی ملبے میں جو دفن رہے جن پر سکتہ ہے طاری جن پر عمرِفانی کا اک اک لمحہ ہے بھاری ٭ دنیا کے ہمدردوں نے ان سے بطورِ ہمدردی کتنی مشکل سے…
Read Moreنوح ناروی
اُن سے ہم کہہ دیں گے اپنے دل کی بات اور کیا ہو گا نہ مانی جائے گی
Read Moreجاں نثار اختر
اُن سے یہی کہہ آئیں کہ اب ہم نہ ملیں گے آخر کوئی تقریبِ ملاقات بنے گی
Read Moreراجہ عبدالقیوم ۔۔۔ جب مچل اٹھتے ہیں جذبات تو میں لکھتا ہوں
جب مچل اٹھتے ہیں جذبات تو میں لکھتا ہوں تپنے لگتے ہیں خیالات تو میں لکھتا ہوں حبس و گرمی سے سلگتے ہوں شب و روز کہ پھر ٹوٹ کر برسے جو برسات تو میں لکھتا ہوں دور ماضی کے کسی بند دریچے سے کبھی جھانکنے لگتے ہیں لمحات تومیں لکھتا ہوں ضبط کی حد میںاگر ہوں تو انہیں سوچتا ہوں حد سے بڑھ جاتے ہیں صدمات تو میں لکھتا ہوں بات جو کہہ نہیں پاتا ہوں کسی سے برسوں دل میںچبھتی ہے وہی بات تو میں لکھتاہوں بات کہنی…
Read Moreاحمد فراز
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ واجد امیر
مرا سُخن مرا حُسنِ کلام اُن کے لیے ہُنر میں جوہے وہ سب دام دام اُن کے لیے سحر کا غلغلہ ہنگامِ شام اُن کے لیے ہے بود و ہست کا سب اہتمام اُن کے لیے شِکوہ و شان اُنہیں کس طرح کرے مرعوب جب ایک جیسے ہیں سب خاص و عام اُن کے لیے پلٹ دیا گیا رفتارِ وقت کا برتن اُلٹ دیا گیا سارا نظام اُن کے لیے چمک اُنہی کے لیے مہر وماہ میں رکھی سجایا کاہکشاؤں کا بام اُن کے لیے کسی کی مسندِ خالی پہ…
Read Moreواجد امیر ۔۔۔ بُجھے ہوئے تھے کئی دل چراغ جَل رہے تھے
بُجھے ہوئے تھے کئی دل، چراغ جَل رہے تھے ہم اپنے چہرے نہیں آئینے بدل رہے تھے کوئی وہاں سے مکاں چھوڑ کر چلا گیا تھا ہم اُس گلی میں بہت دور تک نکل گئے تھے زمیں ، زمانہ ،زیاں کی زبان بولتا تھا یقیں کی ڈور میں اُلجھے گُماں پھسل رہے تھے ہوائیں مِل کے اندھیرے سے بین کررہی تھیں چراغ اپنی لَویں تھام کر سنبھل رہے تھے کسی کا حُسن بہت پاس سے بُلا رہے تھا کسی کے دِل کو کئی مسئلے مسَل رہے تھے کوئی کنویں سے…
Read Moreحامد یزدانی ۔۔۔ سفر کی شاخ پر (جنابِ اختر حسین جعفری کے لیے)
سفر کی شاخ پر (جنابِ اختر حسین جعفری کے لیے) …… سفر کی شاخ پر کِھلی تھیں ملگجی بشارتیں کُشادِ حرفِ ذات سے،سوادِ زخمِ خواب تک سفید جھاڑیوں میں تھیں شفق کی خشک بیریاں کہ جگنوؤں نے روشنی کا پیرہن اتار کر قدیم آسماں کے دائروں میں دفن کر دیا نواحِ جاں میں سرمئی سی بادلوں کی ڈھیریاں فرازِ برف زار سے،نشیب ِ ماہتاب تک غروبِ شامِ رفتگاں کی جل بجھی وصیّتیں ہجومِ رنگ میں گِھرے، اُڑے اُڑے جواب تک پسِ غبارِ آئنہ کوئی سوال رہ گیا کہِیں بس ایک…
Read Moreصغیر احمد صغیر ۔۔۔ اتنا خراب ہو کے بھی اچھا نہیں لگا
صغیر احمد صغیر کی یہ غزل کرب کی شدت اور حسنِ بیان کی لطافت کو یوں ہم آغوش کرتی ہے کہ قاری کے دل و دماغ پر ایک دیرپا اور گہرا تاثر ثبت ہو جاتا ہے۔
Read More