کبھی زندگی کی خواہش ، کبھی آرزو اجل کی کبھی راس دشتِ ویراں ، کبھی جستجو محل کی مرے سامنے سے گزرا ، نہ کیا سلام جس نے مرے ہاتھ چومتا تھا ، ابھی بات ہے یہ کل کی وہی کامیاب ٹھہرا ہے جہانِ تاز و تگ میں جو کرے صمیمِ دل سے ، سدا پیروی عمل کی یہ عجیب سانحہ ہے ، وہ مجھے بھلا چکا ہے کبھی رکھتا تھا خبر تک ، جو مرے ہر ایک پل کی نہ ثبات ہے کسی کو ، نہ دوام ہے کسی…
Read MoreTag: شوکت محمود شوکت کے اشعار
شوکت محمود شوکت ۔۔۔ کوئی اچھا دکھائی دیتا ہے
کوئی اچھا دکھائی دیتا ہے عشق ہوتا دکھائی دیتا ہے فصلِ گُل میں سب ایسے ویسوں کو ایسا ویسا دکھائی دیتا ہے کاش! تم بھی اُسی طرح دیکھو ہم کو جیسا دکھائی دیتا ہے دل کی حالت کا تذکرہ کیسا دل شکستہ دکھائی دیتا ہے سچ تو یہ ہے کہ یہ جہاں سارا ایک دھوکا دکھائی دیتا ہے ہار بیٹھا ہے عشق کی بازی وہ جو اُجڑا دکھائی دیتا ہے سوئے شوکت نظر ہوئی ، تو کہا یہ تو اپنا دکھائی دیتا ہے
Read Moreشوکت محمود شوکت ۔۔۔ دیکھتے ہو کیا چشمِ حیرت سے
دیکھتے ہو کیا چشمِ حیرت سے میں ہوں زندہ ، خدا کی رحمت سے اک دیا بھی بجھا سکی نہ ہوا چل رہی تھی بڑی رعونت سے سوئے صحرا قدم نہیں اٹھتے دل بھی اکتا گیا محبت سے میری بستی میں ، شام کا منظر کم نہیں ہے کسی قیامت سے ان فقیروں سے بھی کبھی تو مل مل کے دیکھا ہے اہلِ دولت سے آبِ زر کو جو آبِ زر جانیں باز آتے ہیں کب نصیحت سے؟ پوچھنے کا ، بھلا تکلف کیوں توُ ، تو واقف ہے حالِ…
Read More