اک فاصلہ رہتا ہے ، پانی سے روانی تک دریائے ہوس میں بھی ، اک موج وفا کی ہے
Read MoreTag: ظفر اقبال کی تخلیقات
ظفر اقبال
شہر سارا ہی مرے گھر سے ترے گھر تک ہے ایک دیوار نہیں ہے جسے میں ڈھا سکتا
Read Moreظفر اقبال
خوش اخلاق تھا ، اس نے انکار بھی کیا ہے ، ظفر ، مسکراتے ہوئے
Read Moreظفر اقبال
بند ہی رہنا تھا اس کے دل کا دروازہ کہ ، ہم کھولتے تھے خود ہی اس جانب جدھر کھلتا نہیں
Read Moreظفر اقبال
پیاس رکھتی ہے تازہ دم مجھ کو دھوپ میں اور لہلہاتا ہوں
Read Moreظفر اقبال
یہ فکر ہے تو اس کو کوئی شکل ہو عطا تجویز ہے تو اس پہ عمل ہونا چاہیے
Read Moreظفر اقبال
زباں کھینچی گئی جس بات پر حلقوم کی حد تک ہمیں معلوم تھی وہ صرف نامعلوم کی حد تک
Read Moreظفر اقبال
راس ہے سب کو مرے خون پسینے کی مہک یعنی میں سارے گھرانے کے لئے زندہ ہوں
Read Moreظفر اقبال
قریب آنے کی تمہید ایک یہ بھی رہی وہ پہلے پہلے ذرا فاصلے سے گزرے گا
Read Moreظفر اقبال
کچھ ایسے ٹوٹتا ہے پیڑ سے پھل کہ جیسے کوئی ناتا ٹوٹتا ہے
Read More