عنبرین صلاح الدین ۔۔۔ بار

بار ……… بار کے سامنے دوست ہنستے ہیں جب تیز گاڑی کے پہیے، سڑک کی رگڑ سے پگھلتے ہیں جلنے کی بو اور چنگھاڑتی تیز رفتار گاڑی اچانک قریب آ کے جھٹکے سے رکتی ہے پہیوں کی چیخوں میں لپٹی ہوئی گالیوں کی صدائیں ابھرتی ہیں اور آنے والے کہانی سناتے ہیں ’’فٹ پاتھ نے آج روکا، وگرنہ یہ گاڑی کہیں نہر میں جا نہاتی مگر کیا کریں، زندگی، سالی یہ تو تبھی لطف دیتی ہے جب گاڑی اڑنے لگے ورنہ کیا زندگی!‘‘ بار کی میز پر چند اوندھے پڑے،…

Read More