عنبرین صلاح الدین ۔۔۔ بار

بار ……… بار کے سامنے دوست ہنستے ہیں جب تیز گاڑی کے پہیے، سڑک کی رگڑ سے پگھلتے ہیں جلنے کی بو اور چنگھاڑتی تیز رفتار گاڑی اچانک قریب آ کے جھٹکے سے رکتی ہے پہیوں کی چیخوں میں لپٹی ہوئی گالیوں کی صدائیں ابھرتی ہیں اور آنے والے کہانی سناتے ہیں ’’فٹ پاتھ نے آج روکا، وگرنہ یہ گاڑی کہیں نہر میں جا نہاتی مگر کیا کریں، زندگی، سالی یہ تو تبھی لطف دیتی ہے جب گاڑی اڑنے لگے ورنہ کیا زندگی!‘‘ بار کی میز پر چند اوندھے پڑے،…

Read More

نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ عنبرین صلاح الدین

حضورؐ  آپ کے رحمت بھرے نگر میں رہوں گماں کے دشت سے نکلوں، یقیں کے گھر میں رہوں بس ایک بار جو اذنِ کلام مل جائے پھر ایک عمر اُسی نعت کے اثر میں رہوں مجھے ملے جو کسی کیفیت کا سایہِ سبز تو حرف حرف شجر ہائے با ثمر میں رہوں جو ننگے پاؤں کریں کوچہِ نبیؐ کا طواف میں گردِ رہ کی طرح اُن کی رہ گزر میں رہوں نہیں رہوں میں اگر اُس نگر کی رہ نہ ملے رہوں تو رہ میں رہوں، ہر گھڑی سفر میں…

Read More

عنبرین صلاح الدین … بام سے ڈھل چُکا ہے آدھا دن

بام سے ڈھل چُکا ہے آدھا دن کس سے ملنے چلا ہے آدھا دن تم جو چاہو تو رُک بھی سکتا ہے ورنہ کس سے رُکا ہے آدھا دن جھانکتی شام کے کنارے پر مجھ سے پھر لڑ پڑا ہے آدھا دن اُس نے دیکھا جہاں پلٹ کے مجھے بس وہیں رُک گیا ہے آدھا دن پڑ رہی ہو گی برف وادی میں آنکھ میں جم گیا ہے آدھا دن عنبرین ایک ہے، بکھیڑے سَو اور گزر بھی گیا ہے آدھا دن

Read More

عنبرین صلاح الدین ۔۔۔ مِحرم

مِحرم ۔۔۔۔۔ عورتوں سےبهرا صحن ہے بین کرتی ہوئی عورتیں دھوپ کی زرد چادر ہے اور چھت کو جاتی ہوئی سیڑھیوں کے اُکھڑتے کنارے پہ اٹکا ہوا دن پھسلتی ہوئی دھوپ دیوار پر، سبز بیلوں میں اُلجھی ہوئی بیل جیسے کوئی اور دیوار کے ساتھ کرسی پہ بیٹھی ہوئی سب کے پُرسوں کی محور  ۔۔۔ اُدھر صحن کے بیچ میں کچھ قدم پر پڑا، اُس کی آدھی صدی کی رفاقت کا پورا بدن دھوپ کی بیل بیلوں کے ہاتھوں سے جیسے نکلتی چلی جا رہی ہے یہ بیلیں ، یہ…

Read More

عنبرین صلاح الدین

اُس کے لفظوں کے مقابل میں بھلا کیا کہتی میں نے حیران ہی رہنے میں سہولت دیکھی

Read More

بول کنارے …… عنبرین صلاح الدین

بول کنارے ………….. کانچ کی چُوڑی ہاتھ پہ توڑ کے ٹکڑوں میں اِک خواب سجایا بادل میں اِک شکل بنا کر پورے سال کی بارش آنکھ سے برسا دی رُخساروں سے پلک اُٹھا کر اُس کے تیز کنارے سے اِک چھید کیااور ایک لکیرلپک کر آئی رات کی کالی چادر پر اِک تارا ٹوٹا اپنی دُعا میں انجانا اِک نام لیا اورلمبے بالوں کی اِک سیڑھی شام کی کھڑکی سے لٹکائی کتنے بوجھل پہر گزارے جانے کس بے درد سے پل میں اپنے پانْو کو خواب کی بہتی جھیل میں…

Read More

دریچہ ۔۔۔۔۔۔۔ عنبرین صلاح الدین

دریچہ ۔۔۔۔۔ رات ہے آخری سانسوں پہ کہ دن ٹوٹ کے ٹکڑوں میں نکل آیا فلک کے در سے نا مکمل کئی وعدوں کی طرح دستِ افلاک سے لٹکے ہوئے دُھندلے تارے منتظر آنکھوں میں آگرتے ہیں لمحہ لمحہ گُونج اُٹھتی ہے کہیں رنج میں ڈوبی آواز صبح کا راز عیاں کرتا یہ پہلا پنچھی جس کے پر میری نگاہوں کی طنابوں سے بندھے کھینچ دیتا ہے وہاں ایک سِرے سے لے کر میری بے خوابی کی سُرخی سے اُفق پر پھیلی ایک بے انت لکیر شام تک کھوجتا پھرتا…

Read More

پسِ ساخت …… عنبرین صلاح الدین

پسِ ساخت …………. باریکی سے لفظوں کی ترتیب لگاتے، ہاتھ کے پیچھے چُھپ کر دُنیا دیکھتے مِشکن! ایک کتاب میں چھپ کر رہنا اچھا ہوتا ہے دِلچسپی سے تم پر باتیں کرتی دُنیا تم کو لفظوں سے حرفوں میں، حرفوں سے اِمکان کے لمحوں میں تقسیم کیے جاتی ہے کیا اِس خال و خد کے ٹکڑے کر دینے سے، یہ انبوہ سوالوں کا اور اِن کا خلا بھی مِٹ جائے گا؟ مِشکن، تم اِک لفظ نہیں ہو تم تو لفظ کے پیچھے چُھپ کر دُنیا دیکھنے والی آنکھ ہو لفظوں…

Read More