عنبرین صلاح الدین ۔۔۔ بار

بار ……… بار کے سامنے دوست ہنستے ہیں جب تیز گاڑی کے پہیے، سڑک کی رگڑ سے پگھلتے ہیں جلنے کی بو اور چنگھاڑتی تیز رفتار گاڑی اچانک قریب آ کے جھٹکے سے رکتی ہے پہیوں کی چیخوں میں لپٹی ہوئی گالیوں کی صدائیں ابھرتی ہیں اور آنے والے کہانی سناتے ہیں ’’فٹ پاتھ نے آج روکا، وگرنہ یہ گاڑی کہیں نہر میں جا نہاتی مگر کیا کریں، زندگی، سالی یہ تو تبھی لطف دیتی ہے جب گاڑی اڑنے لگے ورنہ کیا زندگی!‘‘ بار کی میز پر چند اوندھے پڑے،…

Read More

عنبرین صلاح الدین

اُس کے لفظوں کے مقابل میں بھلا کیا کہتی میں نے حیران ہی رہنے میں سہولت دیکھی

Read More

دریچہ ۔۔۔۔۔۔۔ عنبرین صلاح الدین

دریچہ ۔۔۔۔۔ رات ہے آخری سانسوں پہ کہ دن ٹوٹ کے ٹکڑوں میں نکل آیا فلک کے در سے نا مکمل کئی وعدوں کی طرح دستِ افلاک سے لٹکے ہوئے دُھندلے تارے منتظر آنکھوں میں آگرتے ہیں لمحہ لمحہ گُونج اُٹھتی ہے کہیں رنج میں ڈوبی آواز صبح کا راز عیاں کرتا یہ پہلا پنچھی جس کے پر میری نگاہوں کی طنابوں سے بندھے کھینچ دیتا ہے وہاں ایک سِرے سے لے کر میری بے خوابی کی سُرخی سے اُفق پر پھیلی ایک بے انت لکیر شام تک کھوجتا پھرتا…

Read More