ایمبو لینس کے اندر سے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صدیوں جیسے پل کانوں میں سر سر کرتا ہے وقت کا مایہ جل گُونجے ہر آواز ایک چنگھاڑ طواف کرے اور کھولے سارے راز پیچھے رہ گیا گھر بیٹھی ہوں میں سانسیں روکے گود میں تیرا سر! رستے ہٹتے جائیں پہییے چیخیں گرم سڑک پر سگنل کھُلتے جائیں کتنی دُور نگر سو سو بار اِک پل میں سوچوں کتنا اور سفر! اندر سب گُم صُم کھڑکی سے باہر کی دُنیا اپنی دُھن میں گُم لفظ نہیں بن پائیں ہاتھوں پیروں میں بے چینی سانسیں…
Read MoreTag: عنبرین صلاح الدین
مِحرم …… عنبرین صلاح الدین
مِحرم …….. عورتوں سے بھرا صحن ہے بین کرتی ہوئی عورتیں دھوپ کی زرد چادر ہے اور چھت کو جاتی ہوئی سیڑھیوں کے اُکھڑتے کنارے پہ اٹکا ہوا دن پھسلتی ہوئی دھوپ دیوار پر، سبز بیلوں میں اُلجھی ہوئی بیل جیسے کوئی اور دیوار کے ساتھ کرسی پہ بیٹھی ہوئی سب کے پُرسوں کی محور۔۔۔ اُدھر صحن کے بیچ میں کچھ قدم پر پڑا ،اُس کی آدھی صدی کی رفاقت کا پورا بدن دھوپ کی بیل بیلوں کے ہاتھوں سے جیسے نکلتی چلی جا رہی ہے یہ بیلیں ، یہ…
Read More