گفتگو لاجواب بیچیں گے پانی کہہ کر سراب بیچیں گے یاد رکھنا سدا کے یہ بھوکے اپنا گھوڑا رکاب بیچیں گے دیکھ لینا یہ ڈالروں کے عوض بارشوں کا عذاب بیچیں گے یہ جوعالی جناب کہتے ہیں کل یہ عالی جناب بیچیں گے غم کی قیمت تو ہونے دو معلوم لوگ خوشیاں شتاب بیچیں گے حرف و دانش کے ہم امیں ثاقب خوب دیکھیں گے خواب بیچیں گے
Read MoreTag: منظور ثاقب
منظور ثاقب ۔۔۔ گرا ہے جو پرندہ آشیاں سے
گرا ہے جو پرندہ آشیاں سے اسے لڑنا ہے اب سارے جہاں سے ضرور اک فائدہ ہوتا ہے آخر زیاں اتنا نہیں ہوتا زیاں سے جو ہر لمحے نیا لمحہ تراشے وہی واقف ہے رازِ کن فکاں سے اگر شامل نہیں فکر و تدبر تو پھر بے زار ہوں سِحرِ بیاں سے جو چلاتا ہے اس کا ڈر نہیں ہے بہت ڈرتا ہوں لیکن بے زباں سے وہی اک بات تھی محفوظ ثاقب جو بچ کر رہ گئی تھی راز داں سے
Read More