سلامِ نو اسی دیار اسی سنگِ در سے ملتے ہیں تمام رستے انھی کی نظر سے ملتے ہیں انھی کی ذات ھے جو سائباں ہوئی سب پر حسین والوں کے رشتے ہنر سے ملتے ہیں ہر ایک راستہ جاتا ھے ان کےگھر کی طرف تمام رنگِ سفر ان کےگھر سے ملتے ہیں شکست گرچہ مقدر ھے آدمی کی مگر جو ان کے ہوتے ہیں فتح و ظفر سے ملتے ہیں پکارتی ھے چمن کی ہر ایک راہ گزر ثمر نجات کے سب اس شجر سے ملتے ہیں ا نھی کا…
Read More