سعادت سعید … (قلب ماہیت) مشرقی پاکستان کے لیے ایک نظم

قلب ماہیت (مشرقی پاکستان کے لیے ایک نظم) ………. تمہارے سائے مری تمنا کے جنگلوں میں بھٹک گئے ہیں ابھی ہواؤں کی آستینوں میں خواہشوں کے کنول دھڑک کر ہر ایک شے کو غبارِ باراں کی ٹھنڈکوں کا لباس دیں گے ابھی تمہارے نقوشِ نگراں میں ریت ہوتے مسافروں کے حواس پھیلیں گے سایہ سایہ سمندروں سے بھی گہری آنکھیں پلک پلک پر اداس خوشبو کے آئنوں میں سکوتِ آتش ابل پڑے گا میں زیرِ لب خامشی میں کھوئے حروفِ بیدار جانتا ہوں جہانِ تیرہ میں کرنیں چننے کی آرزو…

Read More

سعادت سعید … کل علمِ کائناتِ سلائف  کے فیلسوف

کل علمِ کائناتِ سلائف  کے فیلسوف مجھ کو تو لگ رہے ہیں غفائف کے فیلسوف ارضِ خیالِ بے سرو پائی کا اسم ہیں اوصافِ مہملاتِ شرائف کے فیلسوف لفظوں سے اُن کا واسطہ شاید نہیں رہا حرفوں کو جانتے ہیں حرائف کے فیلسوف لینے لگے ہیں جاگتے خوابوں کی لذتیں پریاں سلا رہی ہیں لحائف کے فیلسوف ہر  روز ذبح کرتے ہیں پُرشوق مرغیاں موجِ گمانِ کبرِ نوائف کے فیلسوف کرتے ہیں لوٹ مار کی کھل کر حمایتیں عہدے بٹورنے کو شرائف  کے فیلسوف کہتے ہیں اپنے آپ کو مر…

Read More