گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہو ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہو غم بڑھے بھی تو سہی درد زیادہ بھی تو ہو ایسی مشکل تو نہیں دشت وفا کی تسخیر سر میں سودا بھی تو ہو دل میں ارادہ بھی تو ہو ذہن کا مشورۂ‌ ترک طلب بھی برحق ذہن کی بات قبول دل سادہ بھی تو ہو کہیں بادل کہیں سورج کہیں سایہ کہیں دھوپ مرے معبود ترا کوئی لبادہ بھی تو ہو پیار میں کم تو نہیں کم نگہی بھی اس کی ہاں تنک ظرفیٔ احساس کشادہ بھی تو ہو عاشقی…

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ بندوں کا مزاج ہم نے دیکھا ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

بندوں کا مزاج ہم نے دیکھا کیا کچھ نہیں آج ہم نے دیکھا ہلتے ہوئے تخت کو سنبھالو گرتا ہوا تاج ہم نے دیکھا جیتے تو خوشی سے مر نہ جاتے کس شخص کا راج ہم نے دیکھا کیا کیا نہ ترس ترس گئے ہم کیا کیا نہ سماج ہم نے دیکھا روئے ہیں تو لوگ رو پڑے ہیں اب کے تو رواج ہم نے دیکھا گوہرؔ کو سلام شوق پہنچے کچھ کام نہ کاج ہم نے دیکھا

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ یہ صحرائے طلب یا بیشۂ آشفتہ حالی ہے ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

یہ صحرائے طلب یا بیشۂ آشفتہ حالی ہے کوئی دریوزہ گر اپنا کوئی تیرا سوالی ہے حوادث سے نبرد آرائیوں کا کس کو یارا تھا جنوں اپنا سلامت جس نے ہر افتاد ٹالی ہے ترے اغماض کی خو سیکھ لی اہل مروت نے کہ محفل درد کی اب صاحب محفل سے خالی ہے حضوری ہو کہ مہجوری محبت کم نہیں اس سے تب اپنا بخت عالی تھا اب اپنا ظرف عالی ہے نمو کا جوش کچھ نظارہ فرما ہو تو ہو ورنہ بہار اب کے برس خود پائمال‌ خشک سالی…

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ اک سایۂ شام یاد آیا … गौहर होशियारपुरी

اک سایۂ شام یاد آیا خوشبو کا خرام یاد آیا دھویا ہوا سات پانیوں میں کیا نام تھا نام یاد آیا لہجے میں شگفتگی گلوں کی اک شستہ کلام یاد آیا اچھا ہوا گور تک تو پہنچے یاروں کو سلام یاد آیا اے موجۂ باد کیا ہوا ہے کیا تازہ پیام یاد آیا کچھ اور زمیں میں گڑ گئے ہم جب اپنا مقام یاد آیا مقتل سے مڑ آئے گھر کو گوہرؔ شاید کوئی کام یاد آیا

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ میں خود ہی خوگر خلش جستجو نہ تھا ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

میں خود ہی خوگر خلش جستجو نہ تھا دشوار ورنہ مرحلۂ آرزو نہ تھا ناحق خراب منت درماں ہوا نہ درد ممنون زخم ہوں کہ مقام رفو نہ تھا یا آشنائے رمز طلب ہی نہ تھی زباں لب وا ہوئے تو حوصلۂ گفتگو نہ تھا نا‌ پرسش وفا کی یہ نوبت کبھی نہ تھی دل یوں سلوک اہل کرم سے لہو نہ تھا ہاں کب بنام عشق ہوس سرخ رو نہ تھی ہاں کب نیاز شوق سبک کو بہ کو نہ تھا خوش فہمیٔ خیال کی اب ضد کا کیا…

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کون ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کون اب یہ آنکھ ہی جانے دوستوں میں دشمن کون یا جگر میں خوں کم تھا یا ابھی جنوں کم تھا دشت کے عوض کرتا ورنہ قصد گلشن کون اک نشاط آرائی اک سکون تنہائی ہجر یا وصال اچھا حل کرے یہ الجھن کون سلسلے محبت کے نام سے نہیں چلتے اپنی ذات جو تج دے شیخ کیا برہمن کون اک نئی لگن بخشے اک فقط تھکن بخشے مردم آزما نکلا رہنما کہ رہزن کون عشق بے خبر گزرے خیر و شر کے عقدوں…

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ ہاں کاہش فضول کا حاصل بھی کچھ نہیں ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

ہاں کاہش فضول کا حاصل بھی کچھ نہیں لیکن حیات بے خلش دل بھی کچھ نہیں اب سوچ لو قدم ہیں زیاں گاہ شوق میں کہنا نہ پھر کہ جذبۂ کامل بھی کچھ نہیں گہرا سکوت چاپ کی آواز بازگشت رہ میں بھی کچھ نہ تھا سر منزل بھی کچھ نہیں جز حرص منفعت تہ دریا بھی کچھ نہ تھا جز وہم عافیت لب ساحل بھی کچھ نہیں سب جذب آرزو کی تمازت کا کھیل ہے دل سرد ہو تو گرمئ محفل بھی کچھ نہیں بدلے تو اک نمونۂ‌ اعراض…

Read More