آہ قمر علی عباسی! چاند پورا ہے، روشنی کم ہے کیسے کیسے نابغہ ٔ روزگار دُنیا سے اُٹھتے جا رہے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ چیونٹی کی رفتار سے بھی اُن کے متبادل پیدا نہیں ہو رہے۔ یوں تو کوئی کسی کا متبادل ہو ہی نہیں سکتا، پھر بھی یکم جنوری۲۰۱۳ء سے اب تک کے گزشتہ چھ ماہ کے عرصۂ روزو شب میں بقول ناصر کاظمی: اُٹھ گئے کیسے کیسے پیارے لوگ ہو گئے کیسے کیسے گھر خالی اس دُنیاے فانی سے عالمِ جاودانی کو سدھارجانے والے ادبا، شعرا…
Read More