آہ قمر علی عباسی! چاند پورا ہے، روشنی کم ہے
کیسے کیسے نابغہ ٔ روزگار دُنیا سے اُٹھتے جا رہے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ چیونٹی کی رفتار سے بھی اُن کے متبادل پیدا نہیں ہو رہے۔ یوں تو کوئی کسی کا متبادل ہو ہی نہیں سکتا، پھر بھی یکم جنوری۲۰۱۳ء سے اب تک کے گزشتہ چھ ماہ کے عرصۂ روزو شب میں بقول ناصر کاظمی:
اُٹھ گئے کیسے کیسے پیارے لوگ
ہو گئے کیسے کیسے گھر خالی
اس دُنیاے فانی سے عالمِ جاودانی کو سدھارجانے والے ادبا، شعرا اور دانش وَروں کی خاصی تعداد ہے، جن میں سے ہر ایک پورے پورے کالم کا متقاضی ہے، مگر فی الحال یوں بھی کہ قارئین کو پتہ تو چلے کہ چھ ماہ میں کون کون ہم میں نہیں رہا اور کون کس کو تنہا کر گیا؟
یکم جون کو ہفتے کی شب شاعر،فلمی نغمہ نگار اور صحافی اُستاد علامہ ذوقی مظفر نگری گئے۔ عباس اطہر،خالد احمد اور نبی احمدخاں لودھی بھی داغِ مفارقت دے گئے۔ اس موقع پر رضی اختر شوق مرحوم کا شعر یاد آرہا ہے کہ:
نقشِ پا کچھ رفتگاں کے خاک پر محفوظ ہیں
یہ نشانی دیکھ سکتے ہیں، اُٹھا سکتے نہیں
گویا الواحِ مزار ہیں اور یادِ رفتگاں ہے۔ یاد آیا جنوری سے اب تک اور بھی بہت سے ہیں جو رفتگاں میں شامل ہیں۔یہاں تک فقرہ مکمل ہوا تھا کہ یارِ عزیز قمر علی عباسی کی سناؤنی آگئی۔ و ہ گزشہ ڈیڑھ ماہ سے نیویارک کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج تھے، عمر لگ بھگ ۷۰ برس ہو چکی تھی۔ ایک مدت سے شوگر جیسے موذی مرض کے مریض تھے اور بھی کئی عارضے لاحق تھے۔ بالآخر نیویارک میں ہفتہ یکم جون ۲۰۱۳ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اتوار۳جون کی صبح ساڑھے ۹بجے نیویارک کا مسلمانوں کے لیے مخصوص قبرستان اتوار کی چھٹی کے باوجود خصوصی اجازت سے کھلوایاگیا اور تدفین عمل میں آئی۔ یوں عمر کا زیادہ حصہ پاکستان کے شہر کراچی میں گزرانے کے باوجودانھیں وطن کی مٹی نہ مل سکی۔ وہ ریڈیو پاکستان سے کنٹرولر اور سٹیشن ڈائریکٹر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تھے اور ریٹائر ہونے کے بعد سے مستقل طور پر امریکہ میں جا بسے تھے۔ تاہم سال میں ایک بار پاکستان ضرور آتے اور اپنی کسی نئی کتاب کی روُنمائی کرواتے۔
قمر علی عباسی کو سفر کرنے اور سفرنامہ لکھنے میں بہت کمال حاصل تھا۔ مطبوعہ سفر ناموں میں،لندن لندن، دِلّی دور ہے، چلا مسافر سنگاپور، بغداد زندہ باد، نیل کے ساحل، برطانیہ چلیں، امریکہ مت جیئو، ایک بار چلو وینس، واہ برطانیہ، جانا سوئٹزرلینڈ ، لاپیرس،قرطبہ قرطبہ، لرنا کاآیا، ساحلوں کا سفر، ناسو ہرا ہے ، سنگار پورکی سیر، صحرا میں شام، ترکی میں عباسی، اور دیوار گر گئی، شونار بنگلہ، ماریشس میں دھنک، ذکر جل پری کا ، کینیڈا انتظار میں ہے، سات ستارے صحرا میں، میکسیکو کے میلے، ہندوستان ہمارا، عمان کے مہمان، شام تجھے سلام، ہوا ہوائی اور لنکا ڈھائے شامل ہیں، جنھوں نے بے حد پزیرائی حاصل کی۔ ان متعدد سفر ناموں کے علاوہ’’‘ دل دریا’’(اخباری کالموں کا مجموعہ) اور’’قمر علی عباسی ۳۲نا ٹ آؤٹ‘‘ (ریڈیو پاکستان کی ۳۲ سالہ ملازمت کے تجربات و مشاہدات پر مبنی آپ بیتی، جگ بیتی۔ ان سب کتب کے علاوہ بچوں کے لیے بہت سی کتابیں، جن پر پاکستان رائٹرزگلڈ سے کئی بار ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ بہادر علی،شیشے کی آنکھ، بہادر شہزادہ وغیرہ‘‘۔ بہادر علی’’پی ٹی وی کی بچوں کے لیے مقبول سیریل تھی جسے بی بی سی نے بھی پیش کیا۔ اور بھی بہت کچھ لکھا۔ ٹی وی کے لیے، ریڈیو کے لیے نہایت تیزی سے بہت اچھا سکرپٹ لکھنے پر قمر علی عباسی کو مہارت حاصل تھی۔ ایک سفرنامے’’میکسیکو کے میلے‘‘ پر پاکستان رائٹر گلڈ سے نقدایوارڈ بھی ملا۔
وہ روزنامہ’’پاکستان‘‘ میں مدتوں سے کالم لکھ رہے تھے’’اور پھر بیاں اپنا‘‘ کے عنوان سے چَھپنے والا ان کا آخری کالم غالباً مارچ۲۰۱۳ء میں چھپا۔ انھیں بڑوں اور بچوں کے ادب پر پاکستان رائٹرزگلڈ سے متعدد ایوارڈز کے ساتھ ساتھ ’’رشید عمر تھانوی ایوارڈ‘‘ ۔یونیسکو ایوارڈ‘‘۔ اخباری کالم پرA.P.N.Sایوارڈ ۔اور بھی بہت سے ایوارڈ ملے ۔ اخبار جہاں/اخبار خواتین میں بھی لکھتے رہے۔ ریڈیو کے رسالہ’’آہنگ‘‘ کے چیف ایڈیٹر رہے۔ بچوں کے لیے اپنے ذاتی رسالہ’’خزانہ‘‘ کے ایڈیٹر رہے۔ شروع میں وہ قمر انجم امروہوی کے نام سے بھی لکھتے رہے۔ شاعری بھی کی۔ ایک مقطع اُس دور کا:
کیا قیامت ہے اے قمر انجم!
چاند پورا ہے، روشنی کم ہے
اپنے دور کی صفِ اوّل کی ٹی وی آرٹسٹ نیلو فر علیم سے اُس وقت شادی کی جب وہ اپنی شہرت اور فن کے عروج پر تھیں۔ اُن کا ڈرامہ’’شہ زوری‘‘لگتا تھا تو پورے ملک کی سڑکیں سنسان ہوجاتی تھیں۔ سب اپنے اپنے گھروںمیں ٹی وی کے آگے بیٹھے یہ ڈرامہ دیکھتے اور عش عش کر تے تھے۔ شادی کے بعد نیلو فر علیم مستقل طور پر نیلو فرعباسی ہوگئیں اور اسی نام سے ادب وفن وصحافت پر چھائی ہوئی ہیں۔ اُن کے ایک صاحبزادے وجاہت علی عباس ہیں۔ کالم نگار اور دو تین کتابوں کے مصنف ہوگئے ہیں۔ نیلو فر عباسی ایک پتی ورتا’’قسم کی بیوی ثابت ہوئیں اور قمرعلی عباسی کے ہر سفر کی ساتھی بھی رہیں۔ کوئی سفرنامہ ایسا نہیں جو اُن کے بغیر مکمل نہ ہو۔
میری اور قمرعلی عباسی کی دوستی کاآغاز۱۹۶۶ء سے ہوا۔ وہ حیدر آباد(سندھ) سے آئے تھے اور ریڈیو لاہور میں’’لسٹر ریسرچ آفیسر‘‘(L.R.O)تھے۔ میںادارۂ شمع لاہور کے چار ماہناموں شمع، بانو،آئینہ اور بچوں کی دُنیا کا ایڈیٹر تھا۔ قمر علی عباسی میرے ایما پر’’شمع‘‘ اور ’’بچوں کی دُنیا‘‘ میں لکھنے لگے۔ ’’بچوں کی دُنیا بُک ڈپو‘‘ سے اُن کا پہلا ناول’’بہادر شہزادہ‘‘ بھی میں نے چھپوایا، پھر تو چل سو چل۔’’شیشے کی آنکھ‘‘ اور ’’بہادر علی ‘‘سنگِ میل پبلی کیشنز لاہور سے چھپوائے اور اُنھوں نے ہی پہلا ضخیم سفرنامہ’’لند ن لندن‘‘ بھی چھاپا۔ اس دوران میں مَیں ادارہ ’’شمع ‘‘ چھوڑ کر ماہنامہ’’ ادبِ لطیف‘‘ کا ایڈیٹر ہوچکا تھا۔ (ستمبر۱۹۶۶ء سے دسمبر۱۹۸۰ء تک رہا)۔’’ادبِ لطیف‘‘ میں قمر علی عباسی کا ایک افسانہ بھی میں نے چھاپا جو خاصا ہنگامہ خیز رہا اور اُن ہی کے ایک دوست اور ریڈیو کے’’کولیگ‘‘ اور’’روم میٹ‘‘ سلیم خان گمی نے افسانے پر سخت گرفت کی اور قمر علی عباسی کو ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کا پرچارک بنادیا۔ میں نے یہ خط چھاپ دیا، جس پر سرکاریا ملازم ہونے کے ناتے قمر علی عباسی پر افتاد آپڑی۔ ایسی افتاد اس پر اکثر ہوتی رہی۔ ضیاء الحق کے دور میں پی ٹی وی کے ایک خاکے کی وجہ سے نوکری سے معطلی اور ڈپٹی کنٹرولر کے عہدے سے تنزلی بھی یادگارہیں۔ قمر علی عباسی ایک بہادر شخص تھا اور دوسروں کو بھی بہادر ی کا درس دیتے دیتے چل دیا۔ رہے نام اللہ کا۔اُس کے جانے سے بے شک چاند پورا ہے، مگر روشنی کم ہوگئی ہے!
بچھڑ گیا ہے تو سوچتا ہوں
وہ مجھ سے کس واسطے ملا تھا
