جمشید چشتی ۔۔۔ بات لگتی ہے پرانی برسوں

بات لگتی ہے پرانی برسوں ہوئے ، برسے ہوئے پانی، برسوں یہ وہی بیج اُگا ہے ، جس نے بات مٹّی کی نہ مانی برسوں میں نے دیکھی ہے اِسی ساحل پر خشک دریا کی روانی برسوں ایک موسم ہے ، گزر جائے گا یاد آئے گی جوانی برسوں سر کٹاتا ہے کوئی دم بھر میں اور چلتی ہے کہانی برسوں کوئی انعام ہَوا کو ، جس نے کی ہے پیغام رسانی برسوں! وہ تو جمشید بس اک ذرّہ تھا خاک جس دشت کی چھانی برسوں

Read More

آفتاب خان ۔۔۔ وہ ہم سے خاک نشینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے

وہ ہم سے خاک نشینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے مکان اپنے مکینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے ہمارا سارا اثاثہ تھا پہلی منزل پر شکستہ بام کے زینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے نئے وطن میں بھی پہلا خمار جا نہ سکا ہم اپنی کھوئی زمینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے فرار ہو گئے محبوب مہ جبین و رقیب غُلامِ شاہ بھی تینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے اُنھی کے دم سے ولایت کا راستہ کُھلتا جو چند سجدے جبینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے تھی جِس کے خون میں رنگت سفید پتّھر کی وہ…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ ادھر مذہب ادھر انساں کی فطرت کا تقاضا ہے

ادھر مذہب ادھر انساں کی فطرت کا تقاضا ہے وہ دامانِ مہِ کنعاں ہے یہ دستِ زلیخا ہے ادھر تیری مشیت ہے ادھر حکمت رسولوں کی الٰہی آدمی کے باب میں کیا حکم ہوتا ہے یہ مانا دونوں ہی دھوکے ہیں رندی ہو کہ درویشی مگر یہ دیکھنا ہے کون سا رنگین دھوکا ہے کھلونا تو نہایت شوخ و رنگیں ہے تمدن کا معرف میں بھی ہوں لیکن کھلونا پھر کھلونا ہے مرے آگے تو اب کچھ دن سے ہر آنسو محبت کا کنارِ آب رکنا باد و گلگشتِ مصلےٰ…

Read More

اعجاز دانش ۔۔۔ جو مادرِ گیتی کا وفادار نہیں ہے

جو مادرِ گیتی کا وفادار نہیں ہے وہ شخص ہے فنکار ، قلمکار نہیں ہے دعویٰ ہے اگر مجھ سے محبت کا تجھے بھی مجھ کو بھی ترے پیار سے انکار نہیں ہے یہ غم کی کہانی میں کسے جا کے سناؤں دشمن ہیں بہت کوئی مرا یار نہیں ہے عاشق تو بنا پھرتا ہے ہر شخص یہاں پر جاں دینے کو لیکن کوئی تیار نہیں ہے میں جانتا ہوں میرے خدا تیرے علاوہ دینا میں مرا کوئی بھی غمخوار نہیں ہے بے خوف گزر جاؤں گا اس راہ گزر…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ زیرِ تعمیر ہے دُنیا کے ستائے کا مکاں

زیرِ تعمیر ہے دُنیا کے ستائے کا مکاں ڈھونڈتا پھرتا ہُوں جنت میں کرائے کا مکاں یوں تو مِلتی ہیں ہزاروں ہی مقلد گاہیں شہر بھر میں نہیں اِک صاحبِ رائے کا مکاں اپنی پرچھائیں میں بھی سر نہ چھپائیں لیکن دھوپ میں دیکھنا پڑ جاتا ہے سائے کا مکاں اُس کی آنکھوں میں بہت دیر رہے ہیں لیکن راس آیا نہ کبھی ہم کو پرائے کا مکاں ہم سے گمناموں کو رہتی ہے یہ حسرت خاور ہو میسر ہمیں شہرت علی رائے کا مکاں

Read More