بات لگتی ہے پرانی برسوں ہوئے ، برسے ہوئے پانی، برسوں یہ وہی بیج اُگا ہے ، جس نے بات مٹّی کی نہ مانی برسوں میں نے دیکھی ہے اِسی ساحل پر خشک دریا کی روانی برسوں ایک موسم ہے ، گزر جائے گا یاد آئے گی جوانی برسوں سر کٹاتا ہے کوئی دم بھر میں اور چلتی ہے کہانی برسوں کوئی انعام ہَوا کو ، جس نے کی ہے پیغام رسانی برسوں! وہ تو جمشید بس اک ذرّہ تھا خاک جس دشت کی چھانی برسوں
Read MoreTag: Poetry
آفتاب خان ۔۔۔ وہ ہم سے خاک نشینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے
وہ ہم سے خاک نشینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے مکان اپنے مکینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے ہمارا سارا اثاثہ تھا پہلی منزل پر شکستہ بام کے زینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے نئے وطن میں بھی پہلا خمار جا نہ سکا ہم اپنی کھوئی زمینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے فرار ہو گئے محبوب مہ جبین و رقیب غُلامِ شاہ بھی تینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے اُنھی کے دم سے ولایت کا راستہ کُھلتا جو چند سجدے جبینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے تھی جِس کے خون میں رنگت سفید پتّھر کی وہ…
Read Moreخالد احمد
مجھے بسنے نہ دے خالد مگر دستک تو دینے دے ترا دَر بن سکے گا میرا گھر آہستہ آہستہ
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ ادھر مذہب ادھر انساں کی فطرت کا تقاضا ہے
ادھر مذہب ادھر انساں کی فطرت کا تقاضا ہے وہ دامانِ مہِ کنعاں ہے یہ دستِ زلیخا ہے ادھر تیری مشیت ہے ادھر حکمت رسولوں کی الٰہی آدمی کے باب میں کیا حکم ہوتا ہے یہ مانا دونوں ہی دھوکے ہیں رندی ہو کہ درویشی مگر یہ دیکھنا ہے کون سا رنگین دھوکا ہے کھلونا تو نہایت شوخ و رنگیں ہے تمدن کا معرف میں بھی ہوں لیکن کھلونا پھر کھلونا ہے مرے آگے تو اب کچھ دن سے ہر آنسو محبت کا کنارِ آب رکنا باد و گلگشتِ مصلےٰ…
Read Moreاعجاز دانش ۔۔۔ جو مادرِ گیتی کا وفادار نہیں ہے
جو مادرِ گیتی کا وفادار نہیں ہے وہ شخص ہے فنکار ، قلمکار نہیں ہے دعویٰ ہے اگر مجھ سے محبت کا تجھے بھی مجھ کو بھی ترے پیار سے انکار نہیں ہے یہ غم کی کہانی میں کسے جا کے سناؤں دشمن ہیں بہت کوئی مرا یار نہیں ہے عاشق تو بنا پھرتا ہے ہر شخص یہاں پر جاں دینے کو لیکن کوئی تیار نہیں ہے میں جانتا ہوں میرے خدا تیرے علاوہ دینا میں مرا کوئی بھی غمخوار نہیں ہے بے خوف گزر جاؤں گا اس راہ گزر…
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ زیرِ تعمیر ہے دُنیا کے ستائے کا مکاں
زیرِ تعمیر ہے دُنیا کے ستائے کا مکاں ڈھونڈتا پھرتا ہُوں جنت میں کرائے کا مکاں یوں تو مِلتی ہیں ہزاروں ہی مقلد گاہیں شہر بھر میں نہیں اِک صاحبِ رائے کا مکاں اپنی پرچھائیں میں بھی سر نہ چھپائیں لیکن دھوپ میں دیکھنا پڑ جاتا ہے سائے کا مکاں اُس کی آنکھوں میں بہت دیر رہے ہیں لیکن راس آیا نہ کبھی ہم کو پرائے کا مکاں ہم سے گمناموں کو رہتی ہے یہ حسرت خاور ہو میسر ہمیں شہرت علی رائے کا مکاں
Read Moreمحسن نقوی
میں سنگ صفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوں شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تری آنکھیں
Read Moreجاوید شاہین
جمع کرتی ہے مجھے رات بہت مشکل سے صبح کو گھر سے نکلتے ہی بکھرنے کے لیے
Read Moreجمیل ملک
دن کو صحرا میں بگولوں کا سفر بھی دیکھو صبح دم باغ میں یہ رقصِ صبا خوب سہی
Read Moreجاذب قریشی
اسے بھی پیار کے موسم پسند ہیں جاذب سفر کی دھوپ میں جلنے شجر بھی آتا ہے
Read More