حاضر اللہ سائیں سیر و سیاحت کا عمل صدیوں سے جاری و ساری ہے۔ جو لوگ کسی دوسرے ملک، جگہ، شہر یا وادیِ پُرفضا کی سیر کرنے جاتے تھے وہ آ کر اپنے عزیز و اقارب، دوست احباب اور رشتے داروں کو اُس ملک، جگہ، شہر یا وادیِ پُرفضا کی عجیب و غریب، انوکھی اور ناقابلِ فراموش باتیں اور واقعات بتاتے تھے اور لوگ اُن کی باتوں اور واقعات کوسن کر حیرت زدہ رہ جاتے تھے اور کچھ لوگ تو اِن باتوں اور واقعات کو ناقابلِ یقین جانتے تھے۔ اِس…
Read MoreTag: Poetry
ڈاکٹر وزیر آغا ۔۔۔۔۔ درانتی رقص کرتی ہے!
درانتی رقص کرتی ہے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درانتی رقص کرتی ہے زمیں پر گنگناتے انگنت خوشوں کے بادل میں درانتی کوندتی پھرتی ہے ہر خوشے کا بوسہ لے کے کہتی ہے: ’’تمھاری، بس تمھاری منتظر تھی مَیں‘‘ اُسے سینے سے چمٹاتی ہے جھولے میں جُھلاتی ہے اُسے میٹھی سی اِک لوری سناتی ہے! درانتی رقص کرتی ہے کبھی گھنگھرو، کبھی مُدرا کبھی جھک کر، کبھی اک دائرے میں گھوم کر چاروں طرف سو بار پھرتی ہے درانتی اک ہراساں نسل سے دامن چھڑا کر دوسری تک ایک یُگ کو پار کر کے…
Read Moreواجد امیر ۔۔۔ جنگِ آزادی یا غدر
جنگِ آزادی یا غدر ۔۔۔۔۔۔۔۔ صدا میرٹھ سے اُٹّھی تھی جہاں کے سرفروشوں نے یہاں کے غاصبوں اور تاجروں کے بھیس میں آئے درندوں ، کالے کوسوں ، اجنبی دیسوں سے گور ی چمڑی والے ، بے نسب ، مجہول اور مغرور، اکڑی گردنوں والوں کے آگے اِک خطِ انکار کھینچا تھا ہوا میرٹھ سے اُٹّھی تھی کہ جس نے حبس موسم ، بے ثمر لمحوں ، سُلگتی ٹوٹتی، بکھری ہوئی سانسوں کی اک ڈوری میں باندھاتھا صدا ہر دل سے اُٹھی تھی تو پھر منگل نے اک ٹوٹی ہوئی…
Read Moreمحمد نصیر زندہ ۔۔۔ رباعیات
دستار سے اوجِ عرفاں کیوں نہ ہوا سر عیب و ہنر کا عریاں کیوں نہ ہوا واعظ کی نادانی پہ رحم آتا ہے مسلم تو ہوا پر انساں کیوں نہ ہوا آوارہ خیال خواب داں میں اتر آئے نظارے پھسل کے سائباں میں اتر آئے وہ یاد کے رخسار پہ بوسے کا پھول خوشبو کے سبھی رنگ گماں میں اتر آئے قلزم کا سفیر آبلہ پا نکلا دریا بھی آرزو کا پیاسا نکلا آئینۂ رنگ میں در آئی تصویر افسانہ حقیقت کا تماشا نکلا اندیشۂ تعبیر سے ڈر جاتے ہیں…
Read Moreزعیم رشید ۔۔۔ اُس پار
اُس پار ۔۔۔ جہاں تصویر بنواتے ہوئے جو مسکراہٹ ہے وہی چہرے پہ سچ مچ ہو جہاں یہ سر مئی شامیں پہاڑوں سے الجھتی ہوں جہاں یہ چاندنی شبنم کے سائے میں ٹہلتی ہو جہاں امید کی سب کشتیاں دل کے سمندر میں اترتی ہوں جہاں آنکھوں کے خوابوں کو حسیں تعبیر ملتی ہو جہاں خاموشیوں نے آسماں کے راز کھولے ہوں جہاںان موسموں پہ دھوپ کا پہرا نہیں ہوتا جہاں سینے میں کوئی درد اُٹھتا ہو مگر گہرا…
Read Moreطارق بٹ ۔۔۔ گزرے گی کیسے شوق کو اَرزاں کیے ہوئے
(نذرِ غالب) گزرے گی کیسے شوق کو اَرزاں کیے ہوئے اس طور خود کو بے سر و ساماں کیے ہوئے بے زور ہیں، پہ رہتے ہیں، ہر آن خود سے ہم صد حیلہ ہائے دست و گریباں کیے ہوئے کیا اصلِ مدعا ہے کوئی جانتا نہیں یہ ہم جو لغزشوں کو ہیں عریاں کیے ہوئے فرصت جو دے یہ دنیا ، تو آئیں اِدھر کو بھی مدت ہوئی ہے ، آپ سے پیماں کیے ہوئے نشتر سے کم نہیں ہے ، جو نکلے ہے منہ سے بات رکھتے ہو، حرف…
Read Moreاحمد مشتاق
عجب کیا اس قرینے سے کوئی صورت نکل آئے تری باتوں کو خوابوں سے ملا کر دیکھ لیتا ہوں
Read Moreغلام حسین ساجد
اس بار جب اجل سے مرا سامنا ہوا کشتی سے خواب، ہاتھ سے پتوار گر پڑے
Read Moreمحمد اشفاق بیگ ۔۔۔ رہنے کو جو اک دشت میں گھر ڈھونڈ رہے ہیں
رہنے کو جو اک دشت میں گھر ڈھونڈ رہے ہیں ہم خود میں اذیت کا ہنر ڈھونڈ رہے ہیں کل تک تھا جنھیں آبلہ پائی پہ بہت ناز وہ لوگ بھی صحرا میں شجر ڈھونڈ رہے ہیں ہر سمت محبت کے گلابوں کی مہک ہو آشائوں کا اک ایسا نگر ڈھونڈ رہے ہیں دیوار تو دونوں نے ہی مل کر تھی اٹھائی اب دونوں ہی دیوار میں در ڈھونڈ رہے ہیں تا عمر جفائوں کے جو بوتے رہے کانٹے وہ اپنی وفائوں کا ثمر ڈھونڈ رہے ہیں ہر کوچہ و…
Read Moreساقی فاروقی
دریا ہوں کسی روز معاون کی طرح مل یہ کیا کہ ہم اک لہر میں بہہ بھی نہیں سکتے
Read More