ساقی فاروقی ۔۔۔ سرخ گلاب اور بدر منیر

اے دل! پہلے بھی تنہا تھے، اے دل! ہم تنہا آج بھی ہیں اور ان زخموں اور داغوں سے اب اپنی باتیں ہوتی ہیں جو زخم کہ سرخ گلاب ہوئے، جو داغ کہ بدر منیر ہوئے اس طرح سے کب تک جینا ہے، میں ہار گیا اس جینے سے کوئی ابر اُڑے کسی قلزم سے، رس برسے مرے ویرانے پر کوئی جاگتا ہو، کوئی کڑھتا ہو مرے دیر سے واپس آنے پر کوئی سانس بھرے مرے پہلو میں، کوئی ہاتھ دھرے مرے شانے پر اور دبے دبے لہجے میں کہے:…

Read More

ساقی فاروقی

جس کی سخاوتوں کی زمانے میں دھوم ہے وہ ہاتھ سو گیا ہے، تقاضا نہ کر ابھی

Read More

ساقی فاروقی

جانے کیا ہونے والا ہے نیند نہ آئے خوف سے رات ڈرائے، شہر ڈرائے ایک اکیلی ذات کو

Read More

ساقی فاروقی

ثابت قدم عجیب ہیں، آنکھیں تری شبیہ سے خالی ہوئیں تو روح میں بھر کے اُمنگ آ گئے

Read More

ساقی فاروقی

عجب کہ روز اندھیروں سے نور کاڑھتا ہوں فغاں کی رات ہوئی فاش، راز کوئی نہ تھا

Read More

ساقی فاروقی

مَیں آج سیرِ سماوات کے خیال میں ہوں مجھے جسارتِ تسخیرِ ممکنات بھی دے

Read More

ساقی فاروقی

طوافِ درد نہ کر، آنسوؤں کے پاس نہ رہ جواز ڈھونڈ کوئی، بے سبب اداس نہ رہ

Read More

فرار ۔۔۔۔۔ ساقی فاروقی

فرار ۔۔۔۔ شام شام باولے خواب کے عذاب سے ڈرے ہوئے پور پور نیند سے بھرے ہوئے بار بار سوچتے رہیں رات ہو تو رات کاٹ دیں حجلہء ملال میں خیمہء خیال میں دن پکارتا رہے شام شام باولے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Read More

ساقی فاروقی

موت نے پردا کرتے کرتے پردا چھوڑ دیا میرے اندر آج کسی نے جینا چھوڑ دیا خوف کہ رستہ بھول گئ امید کی اجلی دھوپ اس لڑکی نے بالکنی پر آنا چھوڑ دیا روز شکایت لے کر تیری یاد آ جاتی ہے جس کا دامن آہستہ آہستہ چھوڑ دیا دنیا کی بے راہ روی کے افسانے لکھے اور اپنی دنیا داری کا قصہ چھوڑ دیا بس تتلی کا کچا کچا رنگ آنکھوں میں ہے زندہ رہنے کی خواہش نے پیچھا چھوڑ دیا

Read More