ساقی فاروقی

جس کی سخاوتوں کی زمانے میں دھوم ہے وہ ہاتھ سو گیا ہے، تقاضا نہ کر ابھی

Read More

ساقی فاروقی

جانے کیا ہونے والا ہے نیند نہ آئے خوف سے رات ڈرائے، شہر ڈرائے ایک اکیلی ذات کو

Read More