سید ضیاء الدین نعیم … امید

امید ….. آہِ شب گیر کے نادیدہ اثر کی امید کم نگاہی کے تسلسل میں نظر کی امید ستم و جور کی دیوار میں در کی امید ذہنِ غواص میں تحصیل گہر کی امید دشتِ پر خار میں دیدِ گل تر کی امید شب ِتاریک میں تابندہ سحر کی امید یہی امید تو جذبوں کو جواں رکھتی ہے کاروانِ غم ہستی کو رواں رکھتی ہے ۔۔۔!! ………..

Read More

ساقی فاروقی

موت نے پردا کرتے کرتے پردا چھوڑ دیا میرے اندر آج کسی نے جینا چھوڑ دیا خوف کہ رستہ بھول گئ امید کی اجلی دھوپ اس لڑکی نے بالکنی پر آنا چھوڑ دیا روز شکایت لے کر تیری یاد آ جاتی ہے جس کا دامن آہستہ آہستہ چھوڑ دیا دنیا کی بے راہ روی کے افسانے لکھے اور اپنی دنیا داری کا قصہ چھوڑ دیا بس تتلی کا کچا کچا رنگ آنکھوں میں ہے زندہ رہنے کی خواہش نے پیچھا چھوڑ دیا

Read More

ثاقب لکھنوی ۔۔۔۔۔ جو کل نہیں، آج کیا کریں گے

جو کل نہیں، آج کیا کریں گے عالم کا خراج کیا کریں گے دنیا سے شہیدوں کو علاقہ! سر ہی نہیں، تاج کیا کریں گے اُن آنکھوں سے ہو اُمید کیوں کر بیمار، علاج کیا کریں گے ہم خاکِ زمیں پہ سونے والے شاہوں سے مزاج کیا کریں گے رہنے دو ہماری عادتوں کو ہم رسم و رواج کیا کریں گے جمیعتِ دل ہے خوب، لیکن آشفتہ مزاج کیا کریں گے دو روز کی زندگی ہے ثاقب ہم کشور و تاج کیا کریں گے

Read More

اے عشق کہیں لے چل ۔۔۔۔۔ اختر شیرانی

اے عشق! کہیں لے چل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے عشق! کہیں لے چل، اِس پاپ کی بستی سے نفرت گہِ عالم سے، لعنت گہِ ہستی سے اِن نفس پرستوں سے، اِس نفس پرستی سے دُور …. اور کہیں لے چل اے عشق! کہیں لے چل ہم پریم پُجاری ہیں، تُو پریم کنہیا ہے تُو پریم کنہیا ہے، یہ پریم کی نیّا ہے یہ پریم کی نیّا ہے تُو اِس کا کِھویّا ہے کچھ فکر نہیں، لے چل اے عشق! کہیں لے چل بے رحم زمانے کو اب چھوڑ رہے ہیں ہم بے…

Read More