عرفان ستار ۔۔۔۔۔ ترے جمال سے ہم رُونما نہیں ہوئے ہیں

ترے جمال سے ہم رُونما نہیں ہوئے ہیں چمک رہے ہیں مگر آئنہ نہیں ہوئے ہیں دھڑک رہا ہے تو اک اسم کی ہے یہ برکت وگرنہ واقعے اِس دل میں کیا نہیں ہوئے ہیں بتا نہ پائیں تو خود تم سمجھ ہی جاؤ کہ ہم بلا جواز تو بے ماجرا نہیں ہوئے ہیں ترا کمال کہ آنکھوں میں کچھ، زبان پہ کچھ ہمیں تو معجزے ایسے عطا نہیں ہوئے ہیں یہ مت سمجھ کہ کوئی تجھ سے منحرف ہی نہیں ابھی ہم اہلِ جنوں لب کُشا نہیں ہوئے ہیں…

Read More

ہمزاد ۔۔۔۔۔۔ نجیب احمد

ہمزاد ۔۔۔۔۔ مجھے کوزہ بنانے کا ہنر اب تک نہیں آیا ازل سے چاک پر آنسو گندھی مٹی دھری ہے مگر کچھ ذہن میں واضح نہیں ہے تصور ہے بھی تو بس ایک دھندلا سا تصور تصور ، جو کسی بھی نقش میں ڈھلتا نہیں ہے مرے اندر کوئی تصویر گڈمڈ ہو رہی ہے نہ جانے کون مجھ میں رو رہا ہے رواں آنکھوں سے پانی ہو رہا ہے درونِ ذات گہرے پانیوں میں بسنے والی سرد ظلمت کا تماشا ہے دکھائی کچھ نہیں دیتا دیے میں تیل جلتا جا…

Read More

فالتو سامان ۔۔۔۔۔۔ نجیب احمد

فالتو سامان ………….. مرا کمرہ مرا گھر ہے مرے گھر پر مرے بچوں نے قبضہ کر لیا ہے کتابوں سے بھرے کمرے میں اک کرسی تھی اور اک میز تھا اور                       میز پر کاغذ قلم کے ساتھ ہی تصویر رکھی تھی تری تصویر رکھی تھی نگارِ جاں! تری تصویر رکھی تھی تلاشِ رزق میں گھر سے نکلتا، شام کمرے میں قدم رکھتا کتابوں کی طرف بڑھتا تو دن بھر کی تھکن کافور ہو جاتی رگ و پے میں توانائی…

Read More

ایک خاموش نظم …… خالد علیم

ایک خاموش نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ کرنوں کی بارش نہ خوشبو ہَوا کی نہ موسم کے آثار میں زندگی کا سماں ماتمِ حبس میں ایک خاموش آواز کا نغمہ ٔ خامشی سُن کے آنسو بہاتی ہوئی رات کی جیب سے جب سسکتا ہوا چاند نکلا تو آنکھوں نے چپکے سے محرومیوں سے یہ پیماں کیا آج کی رات سوجائیں ہم

Read More

ساقی فاروقی

موت نے پردا کرتے کرتے پردا چھوڑ دیا میرے اندر آج کسی نے جینا چھوڑ دیا خوف کہ رستہ بھول گئ امید کی اجلی دھوپ اس لڑکی نے بالکنی پر آنا چھوڑ دیا روز شکایت لے کر تیری یاد آ جاتی ہے جس کا دامن آہستہ آہستہ چھوڑ دیا دنیا کی بے راہ روی کے افسانے لکھے اور اپنی دنیا داری کا قصہ چھوڑ دیا بس تتلی کا کچا کچا رنگ آنکھوں میں ہے زندہ رہنے کی خواہش نے پیچھا چھوڑ دیا

Read More

غزل ۔۔۔ سوچ کی دستک نہیں یادوں کی خوشبو بھی نہیں

سوچ کی دستک نہیں، یادوں کی خوشبو بھی نہیں زیست کے بے خواب گھر میں کوئی جگنو بھی نہیں نااُمیدی! تیرے گھیرائو سے ڈر لگنے لگا دھڑکنوں کے دشت میں اک چشمِ آہو بھی نہیں جسم کے حساس پودے کو نمو کیسے ملے قرب کی ٹھنڈی ہوا کیا، کرب کی لو بھی نہیں ہم سفر ہیں مصلحت کا خول سب پہنے ہوئے دوستی کیا اب کوئی تسکیں کا پہلو بھی نہیں ضبط کے گہرے سمندر کو تموج بخش دے پیار کی جلتی ہوئی آنکھوں میں آنسو بھی نہیں وقت نے…

Read More

ثاقب لکھنوی ۔۔۔۔۔ جو کل نہیں، آج کیا کریں گے

جو کل نہیں، آج کیا کریں گے عالم کا خراج کیا کریں گے دنیا سے شہیدوں کو علاقہ! سر ہی نہیں، تاج کیا کریں گے اُن آنکھوں سے ہو اُمید کیوں کر بیمار، علاج کیا کریں گے ہم خاکِ زمیں پہ سونے والے شاہوں سے مزاج کیا کریں گے رہنے دو ہماری عادتوں کو ہم رسم و رواج کیا کریں گے جمیعتِ دل ہے خوب، لیکن آشفتہ مزاج کیا کریں گے دو روز کی زندگی ہے ثاقب ہم کشور و تاج کیا کریں گے

Read More