پوچھتے کیا ہو دل کی حالت کا؟ درد ہے، درد بھی قیامت کا یار، نشتر تو سب کے ہاتھ میں ہے کوئی ماہر بھی ہے جراحت کا؟ اک نظر کیا اٹھی، کہ اس دل پر آج تک بوجھ ہے مروّت کا دل نے کیا سوچ کر کیا آخر فیصلہ عقل کی حمایت کا کوئی مجھ سے مکالمہ بھی کرے میں بھی کردار ہوں حکایت کا آپ سے نبھ نہیں رہی اِس کی؟ قتل کردیجیے روایت کا نہیں کُھلتا یہ رشتۂ باہم گفتگو کا ہے یا وضاحت کا؟ تیری ہر بات…
Read MoreTag: irfan sattar
عرفان ستار ۔۔۔۔۔ ترے جمال سے ہم رُونما نہیں ہوئے ہیں
ترے جمال سے ہم رُونما نہیں ہوئے ہیں چمک رہے ہیں مگر آئنہ نہیں ہوئے ہیں دھڑک رہا ہے تو اک اسم کی ہے یہ برکت وگرنہ واقعے اِس دل میں کیا نہیں ہوئے ہیں بتا نہ پائیں تو خود تم سمجھ ہی جاؤ کہ ہم بلا جواز تو بے ماجرا نہیں ہوئے ہیں ترا کمال کہ آنکھوں میں کچھ، زبان پہ کچھ ہمیں تو معجزے ایسے عطا نہیں ہوئے ہیں یہ مت سمجھ کہ کوئی تجھ سے منحرف ہی نہیں ابھی ہم اہلِ جنوں لب کُشا نہیں ہوئے ہیں…
Read Moreعرفان ستار
بتا نہ پائیں تو خود تم سمجھ ہی جاؤ کہ ہم بلا جواز تو بے ماجرا نہیں ہوئے ہیں
Read More