اماوس ۔۔۔۔۔ رقص کرنا تھا سمندر نے مگر یہ چاند ! اس کو کیا ہوا۔۔۔۔ اس چودھویں کے چاند کو کس کی نظر کے کالے بادل گھیر کر اپنی گپھا میں لے گئے اے رات! آنکھیں کھول اک لمحے کو دیکھ اپنے ساحل سے پرے بوڑھا سمندر رقص کے اِک زاویے میں منجمد ہے منتظر ہے چاند کو اپنی گپھا میں سے نکال تاروں سے کہہ بادلوں کی اوٹ سے نکلیں ذرا سی دیر کو اپنی جھلمل کی …تکت، ترکٹ ،تہ ،دھا،تک، سے کتھک کی لے دکھائیں آنکھ بھر اس…
Read MoreTag: تک
ہمزاد ۔۔۔۔۔۔ نجیب احمد
ہمزاد ۔۔۔۔۔ مجھے کوزہ بنانے کا ہنر اب تک نہیں آیا ازل سے چاک پر آنسو گندھی مٹی دھری ہے مگر کچھ ذہن میں واضح نہیں ہے تصور ہے بھی تو بس ایک دھندلا سا تصور تصور ، جو کسی بھی نقش میں ڈھلتا نہیں ہے مرے اندر کوئی تصویر گڈمڈ ہو رہی ہے نہ جانے کون مجھ میں رو رہا ہے رواں آنکھوں سے پانی ہو رہا ہے درونِ ذات گہرے پانیوں میں بسنے والی سرد ظلمت کا تماشا ہے دکھائی کچھ نہیں دیتا دیے میں تیل جلتا جا…
Read Moreفالتو سامان ۔۔۔۔۔۔ نجیب احمد
فالتو سامان ………….. مرا کمرہ مرا گھر ہے مرے گھر پر مرے بچوں نے قبضہ کر لیا ہے کتابوں سے بھرے کمرے میں اک کرسی تھی اور اک میز تھا اور میز پر کاغذ قلم کے ساتھ ہی تصویر رکھی تھی تری تصویر رکھی تھی نگارِ جاں! تری تصویر رکھی تھی تلاشِ رزق میں گھر سے نکلتا، شام کمرے میں قدم رکھتا کتابوں کی طرف بڑھتا تو دن بھر کی تھکن کافور ہو جاتی رگ و پے میں توانائی…
Read More