پروین شاکر ۔۔۔ خواب

کھلے پانیوں میں گھری لڑکیاں نرم لہروں کے چھینٹے اڑاتی ہوئی بات بے بات ہنستی ہوئی اپنے خوابوں کے شہزادوں کا تذکرہ کر رہی تھیں جو خاموش تھیں ان کی آنکھوں میں بھی مسکراہٹ کی تحریر تھی ان کے ہونٹوں کو بھی ان کہے خواب کا ذائقہ چومتا تھا! آنے والے نئے موسموں کے سبھی پیرہن نیلمیں ہو چکے تھے! دور ساحل پہ بیٹھی ہوئی ایک ننھی سی بچی ہماری ہنسی اور موجوں کے آہنگ سے بے خبر ریت سے ایک ننھا گھروندا بنانے میں مصروف تھی اور میں سوچتی…

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ صرف ایک لڑکی

اپنے سرد کمرے میں میں اداس بیٹھی ہوں نیم وا دریچوں سے نم ہوائیں آتی ہیں میرے جسم کو چھو کر آگ سی لگاتی ہیں تیرا نام لے لے کر مجھ کو گدگداتی ہیں کاش میرے پر ہوتے تیرے پاس اڑ آتی کاش میں ہوا ہوتی تجھ کو چھو کے لوٹ آتی میں نہیں مگر کچھ بھی سنگ دل رواجوں کے آہنی حصاروں میں عمر قید کی ملزم صرف ایک لڑکی ہوں!

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ تاج محل

سنگِ مرمر کی خنک بانہوں میں حسنِ خوابیدہ کے آگے مری آنکھیں شل ہیں گنگ صدیوں کے تناظر میں کوئی بولتا ہے وقت جذبے کے ترازو پہ زر و سیم و جواہر کی تڑپ تولتا ہے! ہر نئے چاند پہ پتھر وہی سچ کہتے ہیں اسی لمحے سے دمک اٹھتے میں ان کے چہرے جس کی لو عمر گئے اک دلِ شب زاد کو مہتاب بنا آئی تھی! اسی مہتاب کی اک نرم کرن سانچۂ سنگ میں ڈھل پائی تو عشق رنگِ ابدیت سے سرافراز ہوا کیا عجب نیند ہے…

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی

اپنے پندار کی کرچیاں چن سکوں گی شکستہ اڑانوں کے ٹوٹے ہوئے پر سمیٹوں گی تجھ کو بدن کی اجازت سے رخصت کروں گی کبھی اپنے بارے میں اتنی خبر ہی نہ رکھی تھی ورنہ بچھڑنے کی یہ رسم کب کی ادا ہو چکی ہوتی مرا حوصلہ اپنے دل پر بہت قبل ہی منکشف ہو گیا ہوتا لیکن یہاں خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی!

Read More