عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا فکرِ نالہ میں گویا، حلقہ ہوں زِ سر تا پا عضو عضو جوں زنجیر، یک دلِ صدا پایا حال دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی ہم نے بار ہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا شب نظارہ پرور تھا خواب…
Read MoreTag: Urdu adab
عادل فرحت
میں نے چاہا تھا ترے درد سے محظوظ رہوںدرد بھی وہ کہ جسے میرؔ نہیں کھینچ سکا
Read Moreقابل اجمیری
جھوٹے وعدوں کی لذتیں مت پوچھ آنکھ در سے لگی ہی رہتی ہے
Read Moreقابل اجمیری
عجیب چیز ہے خاکسترِ محبت بھی ذرا کسی نے چھوا اور آگ ابھر آئی
Read Moreقابل اجمیری
عمر بھر ہم سمجھ سکے نہ تجھے آج سمجھا رہی ہے تیری یاد
Read Moreقابل اجمیری
زندگی کتنی تیز رو ہے مگر ساتھ ساتھ آ رہی ہے تیری یاد
Read Moreقابل اجمیری
کچھ غمِ زیست کے شکار ہوئے کچھ مسیحا نے مار ڈالے ہیں
Read Moreقابل اجمیری
آخرِ شب کے ڈوبتے تارو! ہم بھی کروٹ بدلنے والے ہیں
Read Moreقابل اجمیری
نجانے زندگی کیسے گذر گئی, اے دوست! کہیں ٹھہر کے ترا انتظار بھی نہ کیا
Read Moreقابل اجمیری
گھبرا کے نا خدا نے سفینہ ڈبو دیا ہم مسکرا کے دامنِ طوفاں میں آ گئے
Read More