مرزا غالب … عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا فکرِ نالہ میں گویا، حلقہ ہوں زِ سر تا پا عضو عضو جوں زنجیر، یک دلِ صدا پایا حال دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی ہم نے بار ہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا شب نظارہ پرور تھا خواب…

Read More