ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺛﻮﺍﺏِ ﻃﺎﻋﺖ ﻭ ﺯﮨﺪ ﭘﺮ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺍﺩﮬﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ
Read MoreTag: Mirza Ghalib
مرزا غالب … عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا فکرِ نالہ میں گویا، حلقہ ہوں زِ سر تا پا عضو عضو جوں زنجیر، یک دلِ صدا پایا حال دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی ہم نے بار ہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا شب نظارہ پرور تھا خواب…
Read Moreمرزا غالب ۔۔۔ دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا
دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا آتش خاموش کی مانند، گویا جل گیا دل میں ذوقِِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ، غافل! بارہا میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا عرض کیجے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں؟ کچھ خیال آیا تھا وحشت کا، کہ صحرا جل گیا دل نہیں، تجھ کو دکھاتا ورنہ، داغوں کی بہار اِس چراغاں کا کروں کیا، کارفرما جل گیا دود میرا…
Read Moreمرزا غالب ۔۔۔ نقش فریادی ہے کس کی شوخیِٔ تحریر کا
نقش فریادی ہے کس کی شوخیِٔ تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا شوخیِ نیرنگ، صیدِ وحشتِ طاؤس ہے دام، سبزے میں ہے پروازِ چمن تسخیر کا لذّتِ ایجادِ ناز، افسونِ عرضِ ذوقِ قتل نعل آتش میں ہے، تیغِ یار سے نخچیر کا کاؤکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا خشت…
Read More