زمانہ کھیل رہا ہے تمہاری زلفوں سے ہمارے حالِ پریشاں کی بات کون کرے
Read MoreTag: Urdu adab
قابل اجمیری
لذتِ گردشِ ایام وہی جانتے ہیں جو کسی بات پہ اٹھ آئے ہیں میخانے سے
Read Moreقابل اجمیری
ظلمتِ دیر و حرم سے کوئی مایوس نہ ہو اک نئی صبح ابھرنے کو ہے میخانے سے
Read Moreحفیظ ہوشیاری پوری
تمام عمر تیرا انتظار ہم نے کیا اس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیا
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ عصمت چغتائی
عصمت چغتائی عصمت سے قبل ، اُردو ادب میں پندرہ سے بیس ناول نگار خواتین موجود ہیں اور اُن کے پچاس ساٹھ ناولوں کا ذکر بھی تاریخِ ادب میں ملتا ہے مگرعصمت چغتائی اُن ناول نگاروں میں سے ہیں جنہوں نے اُردو میں پہلی بار متوسط گھرانے کی عورتوں کی جنسی گھٹن پر قلم اٹھایا ہے لیکن انہوں نے کہیں بھی اُن کے پس منظر میں سماجی عوامل کو نظر انداز نہیں کیا۔ اس لیے ان کے فن میں داخلیت، نفسیات کی پیچیدگیوں کے ساتھ گرد و پیش کے اثرات…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔۔ قرۃ العین حیدر
قرۃالعین حیدر یہ الگ بحث ہے کہ اُردو میں نیا افسانہ کیا ہے ؟ مگر بہت سے نا قدین کے بر عکس جنہوں نے کرشن چندر کے ’’غالیچہ‘‘ یا منٹو کے ’’پھندنے‘‘ کو نئے افسانے کا آغاز قرار دیا ہے، محمود ہاشمی اختلاف کرتے ہوئے قرۃ العین کو نئے افسانے کا نقطۂ آغاز قرار دیتے ہیں۔انہوں نے تقسیم ہند سے قبل لکھنے کی ابتدا کر دی تھی مگر آزادی کے بعد جو کچھ لکھا وہ آئندگان کے لیے نشانِ راہ ثابت ہوا۔شروع کی کچھ تخلیقات میں اسلوب روایتی تھا مگر…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ ممتاز شیریں
ممتاز شیریں ممتاز شیریں نے اُردو افسانے ہی میں کامیابی کے جھنڈے نہیں گاڑے بلکہ حسن عسکری کی ٹھریک پر وہ ایک بہترین ادبی ناقد کے طور پر بھی نمایاں ہوئیں۔اکثر ناقدین فن کا خیال ہے کہ اُں کے اکثر افسانوں میں سوانحی رنگ، ذاتی زندگی، میاں بیوی کی والہانہ محبت، خوش گوار زندگی، استوار تعلقات کا ذکر ملتا ہے۔بہر حال اگر ذاتی زندگی اور تجربات کو بھی افسانوں کا موضوع بنایا جائے تو اِس میں بھی کوئی قباحت نہیں۔اُن کے افسانوں میں اکثر پلاٹ اسی نوعیت کے ہیں۔جیسے اُنہوں…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ نثار بٹ عزیز
نثار عزیز بٹ نثار عزیز بٹ نے ناول کے علاوہ کسی صنفِ ادب میں نہیں لکھا، البتہ اُن کے سوانح حیات ’’گئے دنوں اک سراغ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔عالمی اور روسی ادب پر اُن کی گہری نظر تھی۔ نثار کا پہلا ناول’’نگری نگری پھرا مسافر‘‘ ۱۹۵۴ء میں منظر عام پر آیا تھا۔پھراُن کے دوسرے ناول’’نے چراغے نے گلے‘‘ ۱۹۷۳ء نے اشاعت کی منزلیں طے کیں اور ۱۹۸۰ء کے اواخر میں انہوں نے’’کاروانِ وجود‘‘ پیش کیا تھا۔ ان کے ناقدین نے انہیں وہ مقام نہیں دیا جس کی وہ مستحق…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ سائرہ ہاشمی
سائرہ ہاشمی ۱۴ ؍اپریل ۱۹۳۷ء کے روز امرتسر میں پیدا ہوئیں۔تعلق ساہیوال سے تھا۔ تقسیمِ ہندسے پہلے ہی اُن کے والد کا ساہیوال آنا جانا رہتا تھا۔لہٰذا قیامِ پاکستان کے بعد اُنہوں نے یہاں مستقل رہائش اختیار کی۔ وہ ممتاز فکشن نگار جمیلہ ہاشمی کی بہن تھیں۔انہوں نے ناول اور افسانوں کے علاوہ ایک سفر نامہ بھی لکھا۔اُن کے افسانوں کا غالب رنگ المیہ اور حزنیہ ہے، جس کی بنیاد انسانی رشتوں سے جُڑے ہوئے دکھ درد ہیں۔ اُن کے ہاں فکشن کی فضا اگرچہ کئی مقامات پر جذباتیت میں…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ رضیہ فصیح احمد
رضیہ فصیح احمد پاکستانی ناول نگار خواتین میں رضیہ فصیح احمد کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے ڈرامے بھی لکھے ہیں۔وہ مراد آباد (متحدہ ہندوستان) میں ۱۹۲۴ء میں پیدا ہوئیں۔ تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہو گئیں۔پہلا افسانہ ’’نا تمام تصویر‘‘ ۱۹۴۸ء عصمت کراچی میں شائع ہوا۔افسانوی مجموعے دو پاٹن کے بیچ، بے سمت مسافر، یہ خواب سارے، بارش کا آخری قطرہ، کالی برف کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔یوں ان کی ابتدائی شہرت ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے ہوئی۔وہ اپنے افسانوں کی بنیادی اپنے گردو پیش…
Read More