نذر سجاد حیدر نذر سجاد حیدرکا شمار اُردو کی اولین خواتین ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد مضامین اور مختصر کہانیوں کے علاوہ اصلاحی و معاشرتی ناول بھی لکھے۔ نذر سجاد حیدر نے بیسویں صدی کے اوائل میں اپنا تخلیقی سفر شروع کیا۔ یہ سیاسی و سماجی تبدیلیوں کا دور تھا۔ ایک طرف لوگ انگریزی حکومت کے خلاف حصول آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے تو دوسری طرف ہندوستان کے روایتی معاشرتی ڈھانچے میں زبردست تبدیلیاں رونما ہورہی تھیں۔انہوںنے کئی ناول لکھے جن میں اختر النسا، آہ مظلوماں،نجمہ…
Read MoreTag: novel
اکرم کنجاہی ۔۔۔ عذرا اصغر
عذرا اصغر عذرا اصغر کا شمار اِس وقت ہمارے سینئر اور منجھے ہوئے فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔وہ تقسیمِ ہند سے پہلے ۱۹۴۰ء میں دہلی میں پیدا ہوئیں۔گھر میں ایک بڑی بہن اور دو بڑے بھائیوں کے بعد چھوٹی اولاد تھیں یعنی بچپن میں گھر بھر کاپیار ملا مگر والد کی دوسری شادی کی وجہ سے ہجرتیں بھی مقدر بنیں۔علمی تربیت دادا نے کی۔مسافرت اتنی رہی کہ تعلیمی سلسلہ بار بار ٹوٹتا جڑتا رہا۔ پاکستان ہجرت کی تو گوجرانوالہ سے سرگودھا اور پھر فیصل آباد میں آباد ہوئیں۔بعد ازاں لاہور،…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ عصمت چغتائی
عصمت چغتائی عصمت سے قبل ، اُردو ادب میں پندرہ سے بیس ناول نگار خواتین موجود ہیں اور اُن کے پچاس ساٹھ ناولوں کا ذکر بھی تاریخِ ادب میں ملتا ہے مگرعصمت چغتائی اُن ناول نگاروں میں سے ہیں جنہوں نے اُردو میں پہلی بار متوسط گھرانے کی عورتوں کی جنسی گھٹن پر قلم اٹھایا ہے لیکن انہوں نے کہیں بھی اُن کے پس منظر میں سماجی عوامل کو نظر انداز نہیں کیا۔ اس لیے ان کے فن میں داخلیت، نفسیات کی پیچیدگیوں کے ساتھ گرد و پیش کے اثرات…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ نثار بٹ عزیز
نثار عزیز بٹ نثار عزیز بٹ نے ناول کے علاوہ کسی صنفِ ادب میں نہیں لکھا، البتہ اُن کے سوانح حیات ’’گئے دنوں اک سراغ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔عالمی اور روسی ادب پر اُن کی گہری نظر تھی۔ نثار کا پہلا ناول’’نگری نگری پھرا مسافر‘‘ ۱۹۵۴ء میں منظر عام پر آیا تھا۔پھراُن کے دوسرے ناول’’نے چراغے نے گلے‘‘ ۱۹۷۳ء نے اشاعت کی منزلیں طے کیں اور ۱۹۸۰ء کے اواخر میں انہوں نے’’کاروانِ وجود‘‘ پیش کیا تھا۔ ان کے ناقدین نے انہیں وہ مقام نہیں دیا جس کی وہ مستحق…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ رضیہ فصیح احمد
رضیہ فصیح احمد پاکستانی ناول نگار خواتین میں رضیہ فصیح احمد کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے ڈرامے بھی لکھے ہیں۔وہ مراد آباد (متحدہ ہندوستان) میں ۱۹۲۴ء میں پیدا ہوئیں۔ تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہو گئیں۔پہلا افسانہ ’’نا تمام تصویر‘‘ ۱۹۴۸ء عصمت کراچی میں شائع ہوا۔افسانوی مجموعے دو پاٹن کے بیچ، بے سمت مسافر، یہ خواب سارے، بارش کا آخری قطرہ، کالی برف کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔یوں ان کی ابتدائی شہرت ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے ہوئی۔وہ اپنے افسانوں کی بنیادی اپنے گردو پیش…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ واجدہ تبسم
واجدہ تبسم واجدہ تبسم ۱۶؍ مارچ ۱۹۳۵ء کے روز امراؤتی میں پیدا ہوئیں۔اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’شہرِ ممنوع‘‘ ۱۹۶۱ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں توبہ توبہ، آیا بسنت سکھی، اُترن، نتھ کا بوجھ، محبت، دھنک کے رنگ نہیں، جیسے دریا، گلی گلی کہانیاں، پھول کھلنے دو، نتھ کا غرور، چٹنی وغیرہ اشاعت پذیر ہوئے۔اُن کا ناول ’’کیسے کاٹوں رین اندھیری‘‘ ۱۹۷۶ء میں شائع ہوا۔’’پھول کھلنے دو‘‘ ۱۹۷۷ء، ’’زن، زر اور زمین‘‘ ۱۹۹۲ء۔ علاوہ ازیں قصاص اور نتھ کی عزت کے نام سے بھی اُن کے ناول شائع ہوئے۔’’بند دروازے‘‘…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ خدیجہ مستور
خدیجہ مستور خدیجہ مستور اور قرۃ العین حیدر دو ایسی خواتین ہیں جن سے متعلق اگر یہ کہا جائے کہ ڈاکٹر رشید جہاں اور عصمت چغتائی کے بعد اُنہوں نے ایک عہد کو متاثر کیا تو چنداں غلط نہ ہو گا۔خدیجہ نے اوّل اوّل شعر گوئی کی کوشش بھی کی مگر اُس میں انہیں کامیابی نصیب نہ ہوئی کہ اللہ کریم نے انہیں ایک مختلف کلام کے لیے منتخب کیا تھا۔ اُن کے ناول ’’آنگن‘‘ اور ’’آگ کا دریا ‘‘ میں مشترک قدر یہ ہے کہ قرۃ العین نے ہندوستان…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ سیمیں کرن
سیمیں کرن گلبرگ،فیصل آباد میں مقیم سیمیں کرن حالیہ دور کی فکشن نگار ہیں۔ماضی قریب میں پاکستان اور پاکستان سے باہر فکشن کے منظر نامے میں انہوں نے بہت سرعت اور محنت سے اپنی جگہ بنائی ہے۔وہ کالم نگار کی حیثیت سے بھی اپنا مقام بنا رہی ہیں۔ ادبی جرائد میں تسلسل کے ساتھ شائع ہونے کی وجہ سے نہ صرف اُن کوسنجیدہ قارئین کی ایک بڑی تعداد میسر ہے بلکہ صاحبانِ نقد و نظر پر بھی انہوں نے اپنا اعتبار قائم کیا ہے۔ اُن کا ادبی تخلیقی اثاثہ معیاراور…
Read Moreایک دن ۔۔۔ بانو قدسیہ
ایک دن۔۔۔۔۔۔۔۔بانو قدسیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹرین حیدر آباد کے سٹیشن پر کھڑی تھی۔ اس کے ڈبے میں سے وہ رنگین اور نازک صراحیاں صاف نظر آ رہی تھیں۔ جن کی مٹی کا رنگ نارنجی اور بیل بوٹوں کا نمونہ خالص سندھی تھا۔ دو امریکن میمیں ہاتھوں میں دو دو صراحیاں تھامے دوکاندار سے سودا کر رہی تھیں۔ اُن کے لکیردار فراک گھٹنوں سے نیچے تنگ اور بغلوں تلے بہت زیادہ کھلے تھے۔ آستینیں غائب تھیں اور گرمی سے جھُلسی گردنوں اور سینوں کا کھلا حصہ بہت سرخ نظر آ رہا تھا۔ معظم…
Read Moreاُس بازار میں ۔۔۔ شورش کاشمیری
اُس بازار میں (شورش کاشمیری) DOWNLOAD
Read More