بانو قدسیہ بانو قدسیہ ۸ ؍نومبر ۱۹۲۸ ء کے روز فیروز پور مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئیں۔ قیام پاکستان کے بعد والدین کے ساتھ لاہور منتقل ہوئیں۔ انہیں زیادہ شہرت اُن کے ناول ’’راجہ گدھ‘‘ سے ملی جو ادبی حلقوں میں زیرِ بحث رہتاہے مگر اُن کے کئی افسانوی مجموعے اشاعت پذیر ہوئے جن میں ناقابلِ ذکر، توجہ کی طالب(افسانوی کلیات)، امر بیل، باز گشت، کچھ اور نہیں، دانت کا دستہ، آتشِ زیرِ پااور دوسرا قدم، دوسرا دروازہ شامل بھی ہیں۔ اُن کا پہلا افسانہ’’وا ماندگیٔ شوق‘‘ ۱۹۵۰ء میں ادبِ…
Read MoreTag: Bano Qudsia
ایک دن ۔۔۔ بانو قدسیہ
ایک دن۔۔۔۔۔۔۔۔بانو قدسیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹرین حیدر آباد کے سٹیشن پر کھڑی تھی۔ اس کے ڈبے میں سے وہ رنگین اور نازک صراحیاں صاف نظر آ رہی تھیں۔ جن کی مٹی کا رنگ نارنجی اور بیل بوٹوں کا نمونہ خالص سندھی تھا۔ دو امریکن میمیں ہاتھوں میں دو دو صراحیاں تھامے دوکاندار سے سودا کر رہی تھیں۔ اُن کے لکیردار فراک گھٹنوں سے نیچے تنگ اور بغلوں تلے بہت زیادہ کھلے تھے۔ آستینیں غائب تھیں اور گرمی سے جھُلسی گردنوں اور سینوں کا کھلا حصہ بہت سرخ نظر آ رہا تھا۔ معظم…
Read More