نثار عزیز بٹ نثار عزیز بٹ نے ناول کے علاوہ کسی صنفِ ادب میں نہیں لکھا، البتہ اُن کے سوانح حیات ’’گئے دنوں اک سراغ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔عالمی اور روسی ادب پر اُن کی گہری نظر تھی۔ نثار کا پہلا ناول’’نگری نگری پھرا مسافر‘‘ ۱۹۵۴ء میں منظر عام پر آیا تھا۔پھراُن کے دوسرے ناول’’نے چراغے نے گلے‘‘ ۱۹۷۳ء نے اشاعت کی منزلیں طے کیں اور ۱۹۸۰ء کے اواخر میں انہوں نے’’کاروانِ وجود‘‘ پیش کیا تھا۔ ان کے ناقدین نے انہیں وہ مقام نہیں دیا جس کی وہ مستحق…
Read More