جیلانی بانو جیلانی بانو کے ہاں عورت کا کردار بہت اہم ہے۔اُن کے اکثر افسانوں کا مرکزی کردار عورت ہی ہوتی ہے۔ وہ ادب میں وارد ہوئیں تو ایک طرف رشید جہاں اور عصمت کے اسلوب بیاں کا طوطی بول رہا تھا تو دوسری طرف قرۃ العین اور خدیجہ اپنے پیش روؤں کے بنائے ہوئے راستوں کو کشادہ کر رہی تھیں۔ موضوعات میں گو نا گونی پیدا ہو چکی تھی۔ جیلانی بانو اِن خواتین کی نسبے سرسید کی تحریکِ اصلاح سے زیادہ متاثر تھیں۔ اُن کی ادبی شخصیت کی کئی…
Read MoreTag: Urdu adab
اکرم کنجاہی ۔۔۔ واجدہ تبسم
واجدہ تبسم واجدہ تبسم ۱۶؍ مارچ ۱۹۳۵ء کے روز امراؤتی میں پیدا ہوئیں۔اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’شہرِ ممنوع‘‘ ۱۹۶۱ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں توبہ توبہ، آیا بسنت سکھی، اُترن، نتھ کا بوجھ، محبت، دھنک کے رنگ نہیں، جیسے دریا، گلی گلی کہانیاں، پھول کھلنے دو، نتھ کا غرور، چٹنی وغیرہ اشاعت پذیر ہوئے۔اُن کا ناول ’’کیسے کاٹوں رین اندھیری‘‘ ۱۹۷۶ء میں شائع ہوا۔’’پھول کھلنے دو‘‘ ۱۹۷۷ء، ’’زن، زر اور زمین‘‘ ۱۹۹۲ء۔ علاوہ ازیں قصاص اور نتھ کی عزت کے نام سے بھی اُن کے ناول شائع ہوئے۔’’بند دروازے‘‘…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ بانو قدسیہ
بانو قدسیہ بانو قدسیہ ۸ ؍نومبر ۱۹۲۸ ء کے روز فیروز پور مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئیں۔ قیام پاکستان کے بعد والدین کے ساتھ لاہور منتقل ہوئیں۔ انہیں زیادہ شہرت اُن کے ناول ’’راجہ گدھ‘‘ سے ملی جو ادبی حلقوں میں زیرِ بحث رہتاہے مگر اُن کے کئی افسانوی مجموعے اشاعت پذیر ہوئے جن میں ناقابلِ ذکر، توجہ کی طالب(افسانوی کلیات)، امر بیل، باز گشت، کچھ اور نہیں، دانت کا دستہ، آتشِ زیرِ پااور دوسرا قدم، دوسرا دروازہ شامل بھی ہیں۔ اُن کا پہلا افسانہ’’وا ماندگیٔ شوق‘‘ ۱۹۵۰ء میں ادبِ…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ فرخندہ لودھی
فرخندہ لودھی ۲۱؍ مارچ ۱۹۳۷ ء کے روز ساہیوال میں پیدا ہوئیں۔آبا ؤ اجداد کا تعلق ہوشیار پور (مشرقی پنجاب) سے تھا۔پہلا افسانہ گولڈ فلیک ۱۹۶۴ء میں لکھا۔اُن کے افسانوی مجموعے شہر کے لوگ، آرسی، خوابوں کے کھیت اور جب بجا کٹورا کے نام سے اشاعت پذیر ہو چکے ہیں۔انہوں نے جرات اور حوصلہ مندی کے ساتھ زندگی کے حقائق بیان کیے۔ اگرچہ اُن کے اسلوبِ بیان میں علامت کا بھی عمل دخل ہے مگر اُن کی علامتیں کہانی کے ساتھ آگے بڑھتی اور خود اپنے مفاہیم واضح کرتی چلی…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ بشری رحمن
بشری رحمن بشری رحمن۱۹۴۴ ء میںبہاول پور میں پیدا ہوئیں۔اُردو، پنجابی اور سرائیکی میں لکھتی ہیں۔ اُن کی شخصیت کی کئی جہات ہیں۔ناول نگار، افسانہ نگار، سفرنامہ نگار، شاعرہ، مقررہ، سیاست دان اورسماجی خدمت گارڈیڑھ درجن کے قریب ناول اشاعت پذیر ہو چکے ہیں۔مثلاً بت شکن، چپ، پشیمان،پیاسی،چارہ گری،خوبصورت،عشق عشق،قلم کہانیاں، مولانا ابو الکلام آزاد، ایک مطالعہ، چاند سے نہ کھیلو،کائنات بشیر۔اُن کے کئی ناولوں کوٹیلی وژن چینلز نے ڈرامائی تشکیل دی۔ پاکستان میں پہلی باقاعدہ خاتون کالم نگار جنگ اور نوائے وقت میں ’’چادر، چار دیواری اور چاندنی‘‘ بے…
Read Moreآہ سنبھلی
خدا کرے کہ سنے تو زبانِ خاموشی ترے پڑوس میں کچھ بے زبان رہتے ہیں
Read Moreنظر امروہوی
پھونک دیتے زمانے کو، جلوے تِرے وہ تو کہیے کہ ہم درمیاں آگئے
Read Moreآفتاب مضطر ۔۔۔ ہر ظلم ترا یاد ہے بھولا تو نہیں ہوں
ہر ظلم ترا یاد ہے بھولا تو نہیں ہوں اے وعدہ فراموش میں تجھ سا تو نہیں ہوں اے وقت مٹانا مجھے آسان نہیں ہے انساں ہوں کوئی نقشِ کف پا تو نہیں ہوں چپ چاپ سہی مصلحتاً وقت کے ہاتھوں مجبور سہی وقت سے ہارا تو نہیں ہوں یہ دن تو مجھے ان کے تغافل نے دکھائے میں گردشِ دوراں ترا مارا تو نہیں ہوں ان کے لیے لڑ جاؤں گا، تقدیر! میں تجھ سے حالانکہ کبھی تجھ سے میں اُلجھا تو نہیں ہوں ساحل پہ کھڑے ہو تمہیں…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ حمیدہ شاہین
حمیدہ شاہین اُن کا پہلا شعری مجموعہ ’’دستک‘‘جو غزلوں اور نظموں پر مشتمل تھا، ۲۰۰۵ء میں منظر عام پر آیا۔اُن کی شاعری در اصل جدید حسّیت اور عصری حسّیت کا عمدہ امتزاج ہے۔وجدانی کیفیات اور شعوری تجربات و مشاہدات کا حسنِ توازن ہے۔ اِس لیے یہ آج کی حقیقی شاعری ہے جو اُردو غزل کا تاریخی ارتقا بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے اور لچک دار اِس قدر ہے کہ عصری آشوب سے بھی پہلو تہی نہیں کرتی۔ اسلوبِ بیاں ایسا کہ روایت سے آگہی کلام میں جھلکتی محسوس…
Read Moreمحسن اسرار
کتنی ساکت فضا ہے دنیا کی مُڑ کے دیکھوں تو حادثہ ہو جائے
Read More