دن نکلتا ہے کس تمنا میں رات کس آسرے پہ آتی ہے
Read MoreTag: Urdu adab
قابل اجمیری … وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعد
وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعد سحر تھی شام سے پہلے سحر ہے شام کے بعد مجھی پہ اتنی توجہ مجھی سے اتنا گریز مرے سلام سے پہلے مرے سلام کے بعد چرغِ بزمِ ستم ہیں ہمارا حال نہ پوچھ جلے تھے شام سے پہلے بجھے ہیں شام کے بعد یہ رات کچھ بھی نہیں تھی یہ رات سب کچھ ہے طلوعِ جام سے پہلے طلوعِ جام کے بعد رہِ طلب میں قدم لڑکھڑا ہی جاتے ہیں کسی مقام سے پہلے کسی مقام کے بعد
Read Moreقابل اجمیری
خود تمہیں چاکِ گریباں کا شعور آ جائے گا تم وہاں تک آ تو جاؤ ہم جہاں تک آ گئے
Read Moreقابل اجمیری
آج قابلؔ میکدے میں انقلاب آنے کو ہے اہلِ دل اندیشۂ سود و زیاں تک آ گئے
Read Moreقابل اجمیری
ٹھنڈے پڑے ہیں انجمنِ رنگ کے چراغ اک نغمۂ بہار بطرزِ فغاں سہی
Read Moreقابل اجمیری
جلوہ گاہِ یار سے بھی تشنہ کام آئے ہیں لوگ جانے امیدیں زیادہ ہیں کہ جلوے کم رہے
Read Moreقابل اجمیری
رخصتِ دوست پہ قابلؔ دلِ مایوس کو دیکھ اک سفینہ ہے کہ ساحل سے جدا ہوتا ہے
Read Moreقابل اجمیری
گرتے سنبھلتے جھومتے دارورسن کو چومتے اہلِ جنوں تیرے حضور آ ہی گئے کشاں کشاں
Read Moreقابل اجمیری
آؤ اب ایک نئے دور کا آغاز کریں عہدِ رفتہ کی کوئی بات نہیں یاد مجھے
Read Moreعالم نظامی
جو مجھے جیسا سمجھتا ہے سمجھنے دیجے اپنے بارے میں کہاں تک میں صفائی دوں گا
Read More