اظہارِ ذات کی شاعرہ…صائمہؔ اسحاق یہ حقیقت ہے کہ ہر شاعر اپنے مطالعے کی بنیاد پر اپنے شعری سفرکو آگے بڑھاتا ہے۔ اِس سفر میں جو اُسے تلخ و شیریں تجربات اور عمیق مشاہدات ہوتے ہیں وہ اپنی شاعری کا حصہ بناتا ہے۔ یہ شاعر پر منحصر ہے کہ وہ کس فن کاری، چابک دستی اور ہنرمندی سے کارِ شاعری کو انجام دیتا ہے۔ صائمہ اسحاق ایک وسیع المطالعہ شخصیت ہیں۔ ہر شاعر اپنے مستند پیش روئوں سے کسی نہ کسی سطح ُپر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسلاف…
Read MoreTag: Urdu adab
ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ صور اسرافیل
اب تو بستر کو جلدی سے تہہ کر چکو لقمہ ہاتھوں میں ہے تو اسے پھینک دو اپنے بچوں کی جانب سے منھ پھیر لو اس گھڑی بیویوں کی نہ پروا کرو راہ میں دوستوں کی نظر سے بچو اس سے پہلے کہ تعمیل میں دیر ہو سائرن بج رہا ہے ۔ چلو دوستو!
Read Moreڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ دوسری جلاوطنی
جب گیہوں کا دانا جنس کا سمبل تھا، اس کو چکھنے کی خاطر، میں جنت کو ٹھکرا آیا تھا۔ اب گیہوں کا دانہ، بھوک کا سمبل ہے ۔ جس کو پانے کی خاطر، میں اپنی جنت سے باہر ہوں !
Read Moreڈاکٹر مظفر حنفی : جھولنا حاتم کے سر کا۔۔۔
اور حاتم طائی نے جب، اسم اعظم پڑ ھ کے ، ان پر دم کیا۔ پیڑ پر لٹکے ہوئے سر، گر پڑے تالاب میں ، اپنے جسموں سے گلے مل کر، نہایت خوش ہوا پریوں کا غول۔ مہ لقاؤں میں جو سب سے خوب تھی، شکریے کے طور پر حاتم سے ہم بستر ہوئی۔ یہ بدن ہی سے بدن کا تھا ملاپ، جسم اور سر کا نہیں ۔ اس واسطے ، اسم اعظم کا اثر جاتا رہا، تب سے ، حاتم طائی کا سر، جھُولتا ہے پیڑ پر۔ اور، دھڑ…
Read Moreڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ رِستا ہوا بوسہ
میں نے اس کے تھر تھراتے ہونٹ پر، کچھ اس طرح آہستگی سے ، رکھ دیے تھے ہونٹ اپنے ، جیسے چوڑی پر کوئی چوڑی بٹھائے ۔ ذہن میں ہلکی سی شیرینی کا خوش کن ذائقہ ہے ۔ سانس میں خوشبو گھلی ہے ، شہد میں دوبی ہوئی چمپا کی پنکھڑیوں کا عالم، پھر مرے احساس میں کیوں …….. کانچ کا ٹکڑا سا چبھ کر رہ گیا ہے ، میرے ہونٹوں پر، یہ سُرخی کس لیے ہے ؟!
Read Moreڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ فیڈنگ پرابلم
شہر میں کرفیو لگا ہے ۔ میری ہمسایہ کے گھر طوفاں بپا ہے ۔ دودھ اس کی چھاتیوں سے بہہ رہا ہے بھوک سے بے حال اس کا بچہ کپڑے نوچتا ہے دودھ کا ٹِن اس طرف خالی پڑا ہے ۔ شہر میں کرفیو لگا ہے
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ ڈوبنے جاؤں تو دریا…….
کرارے نوٹ چھن چھن بولتے سکّے ، شیئر، ہُنڈی، چمکتی میز، الماری، نگر کے سیٹھ، افسر اور پھر ان کے حواری، کلرکوں کی زبان پر موٹے موٹے ہندسے جاری، قلم بھاری۔ فضا میں بینک کی ہر سمت اک سنجیدگی طاری۔ نہ جانے کیسے چوکیدار کی آنکھیں بچا کر، نیم خبطی اک بھکاری، کب بڑے صاحب کے کمرے میں در آیا، لگا تھا پیٹھ سے جو پیٹ، دکھلایا۔ کہا: سرکار مل جائے اگر اک نوٹ دس کا، میں چنے لے کر چبا لوں ، پیٹ کا دوزخ بجھا لوں ۔ جواباً…
Read Moreڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ ایک نظم
دن چڑھ آیا، چل ہم زاد، میرے بستر پر تو آ جا۔ کالی نفرت، سُرخ عقیدت، بھوری آنکھوں والی حیرت، بھولی بھالی زرد شرافت، نیلا نیلا اندھا پیار، رنگ برنگے غم کے تار، خوشیوں کے چمکیلے ہار، دھانی، سبز، سپید، سنہرے، اپنے سارے نازک جذبے، پھر دن کو تجھ کو سونپے، مصلحتوں کے شہر میں ان کے، لاکھوں ہیں جلّاد۔ دن چڑھ آیا، چل ہم زاد!
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ مدافعت میں بھی تلوار اگر اٹھاتا ہوں
مدافعت میں بھی تلوار اگر اٹھاتا ہوں تو بے قصور کہاں ہوں کہ سر اٹھاتا ہوں خفا ہیں اہلِ فلک میری چیرہ دستی پر ستارے بو کے زمیں سے ضر ر اٹھاتا ہوں مِرا کمالِ ہُنر میری صاف گوئی ہے صعوبتیں بھی اسی بات پر اٹھاتا ہوں ثمر بدست شجر پر چلائے تھے پتھر گِرے ہیں پھل میں انھیں چوم کر اٹھاتا ہوں اگرچہ دل پہ ٹپکتی ہے یاد کی شبنم خفیف ہوں کہ دھواں رات بھر اٹھاتا ہوں گزر گیا وہ بگولہ، وہ ریت بیٹھ گئی میں بیٹھتا ہوں…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ پاؤں تو مسندِ سلطانی پہ رکھا ہوا ہے
پاؤں تو مسندِ سلطانی پہ رکھا ہوا ہے سر مرا بے سر و سامانی پہ رکھا ہوا ہے عالم الغیب نمائش کو نہیں کرتا قبول آپ کا سجدہ تو پیشانی پہ رکھا ہوا ہے اے ہوا خوش نہ ہو فانوس اگر ہیں بے نور اک دِیا اور ادھر پانی پہ رکھا ہوا ہے ہے تو ہو سامنے انبار پریشانی کا حوصلہ بھی تو پریشانی پہ رکھا ہوا ہے کیا تعجب ہے اگر خاک بسر ہیں ہم لوگ ہم نے تکیہ بھی تو نادانی پہ رکھا ہوا ہے ایک بھی پھول…
Read More