مظفر حنفی ۔۔۔ آگ پر چل کے دکھایا تو کبھی پانی پر

آگ پر چل کے دکھایا تو کبھی پانی پر گولیاں کھائی ہیں فنکار نے پیشانی پر کون تاریخ میں احوال ہمارا لکّھے ہم تو ٹھوکر بھی لگاتے نہیں سلطانی پر کیا سمجھتا تھا کہ مل جائے گا ثانی اس کا میں تو حیران ہوں آئینے کی حیرانی پر گدگداتا ہے شگوفوں کو وہ پوشیدہ ہات جس نے کانٹوں کو لگایا ہے نگہبانی پر وہ مجھے دولتِ کونین عطا کرتا ہے اس طرف ناز مجھے بے سر و سامانی پر عمر کے آٹھویں عشرے میں کرو سجدۂ شکر آمدِ طبع مظفر…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ توبہ کیجے اب فریبِ دوستی کھائیں گے کیا

توبہ کیجے اب فریبِ دوستی کھائیں گے کیا آج تک پچھتا رہے ہیں اور پچھتائیں گے کیا خود نہ سمجھے ذبح ہونے والے سمجھائیں گے کیا بات پہنچے گی کہاں تک آپ کہلائیں گے کیا بزمِ کثرت میں یہ کیوں ہوتا ہے ان کا انتظار پردۂ وحدت سے باہر نکل آئیں گے کیا کل بہار آئے گی یہ سن کر قفس بدلو نہ تم رات بھر میں قیدیوں کے پر نکل آئیں گے کیا اے دلِ مضطر انھیں باتوں سے چھوٹا تھا چمن اب ترے نالے قفس سے بھی نکلوائیں…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ ہم خیالِ قیس ہوں ہم مشربِ فرہاد ہوں

ہم خیالِ قیس ہوں، ہم مشربِ فرہاد ہوں حسن اتنا سوچ لے: دو بیکسوں کی یاد ہوں پاشکستہ، دل حزیں، شوریدہ سر، برباد ہوں سر سے لے کر پاؤں تک فریاد ہی فریاد ہوں حالِ گلشن کیا ہے اے نوواردِ کنجِ قفس میں تو مدت سے اسیرِ خانۂ صیاد ہوں خیریت سن لی گل و غنچے کی لیکن اے صبا یاد ہیں مجھ کو تو سب، میں بھی کسی کو یاد ہوں تم سرِ محفل جو چھیڑو گے، مجھے پچھتاؤ گے جس کو سن سکتا نہیں کوئی میں وہ فریاد…

Read More

رضوان احمد ۔۔۔ اردو شاعری کا شہابِ ثاقب: اطہر نفیس

 کنور اطہر علی خاں کی پیدائش علی گڑھ کے قبصہ پٹل کے ایک معزز خاندان میں22فروری سنہ 1933کو ہوئی تھی۔ ان کی ابتدائی تعلیم علی گڑھ میں ہی ہوئی۔علی گڑھ کے قصبہ پٹل سے ہجرت کر کے وہ سنہ 1949میں کراچی چلے گئے تھے او وہاں مشہور اخبار ” جنگ “ کے انتظامی شعبے سے وابستہ ہوئے او ترقی کر کے چیف اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر پہنچے۔ اطہر نفیس نے ایک منفرد شاعر کی حیثیت سے ادب میں اپنا مقام بنایا۔ اطہر نفیس کو کم وقت ملا اور صرف 47برس…

Read More

خالد حسن ۔۔۔۔ فقیر منش مصور صادقین، بیس سال بعد (26 ستمبر 2007)

صادقین کی موت کو 20 سال ہوگئے۔ وہ اگر زندہ ہوتے تو اس وقت 77 برس کے ہوتے۔ جب 1987ء میں ان کا انتقال ہوا تو لوگوں کو ان کی موت سے زیادہ اس بات پر تعجب ہوا تھا کہ آخر وہ اتنا عرصہ زندہ کیسے رہ لیے۔انھوں نے اپنی زندگی کو بھی اسی شدت، اسی جوش سے گزارا تھا جس شدت اور جوش و جذبے سے وہ مصوری اور شاعری کیا کرتے تھے۔ صادقین نے اپنی شمعِ زندگی کو دونوں سروں سے جلایا تھا، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ اگر صیاد یہ بجلی نشیمن پہ گری ہو گی

اگر صیاد یہ بجلی نشیمن پہ گری ہو گی دھواں تنکوں سے اٹھے گا چمن میں روشنی ہو گی ستم گر حشر میں وہ بھی قیامت کی گھڑی ہو گی ترے دامن پہ ہوگا ہاتھ دنیا دیکھتی ہو گی مجھے شکوے بھی آتے ہیں مجھے نالے بھی آتے ہیں مگر یہ سوچ کر چپ ہوں کی رسوا عاشقی ہو گی تو ہی انصاف کر جلوہ ترا دیکھا نہیں جاتا نظر کا جب یہ عالم ہے تو دل پر کیا بنی ہو گی اگر آ جائے پہلو میں قمر وہ ماہِ…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ کیا سے کیا یہ دشمن جاں تیرا پیکاں ہو گیا

کیا سے کیا یہ دشمنِ جاں تیرا پیکاں ہو گیا تھا کماں تک تیر دل میں آ کے ارماں ہو گیا باغباں کیوں سست ہے غنچہ و گل کی دعا اک مرے جانے سے کیا خالی گلستان ہو گیا کیا خبر تھی یہ بلائیں سامنے آ جائیں گی میری شامت مائلِ زلفِ پریشاں ہو گیا کچھ گلوں کو ہے نہیں میری اسیری کا الم سوکھ کر کانٹا ہر اک خارِ گلستاں ہو گیا ہیں یہ بت خانے میں بیٹھا کر رہا کیا کیا قمر ہم تو سنتے تھے تجھے ظالم…

Read More