صادقین کی موت کو 20 سال ہوگئے۔ وہ اگر زندہ ہوتے تو اس وقت 77 برس کے ہوتے۔ جب 1987ء میں ان کا انتقال ہوا تو لوگوں کو ان کی موت سے زیادہ اس بات پر تعجب ہوا تھا کہ آخر وہ اتنا عرصہ زندہ کیسے رہ لیے۔انھوں نے اپنی زندگی کو بھی اسی شدت، اسی جوش سے گزارا تھا جس شدت اور جوش و جذبے سے وہ مصوری اور شاعری کیا کرتے تھے۔ صادقین نے اپنی شمعِ زندگی کو دونوں سروں سے جلایا تھا، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے…
Read MoreTag: Sadqain
رضوان احمد : صادقین: "تصویروں میں اشعار کہے ہیں میں نے”
بائیس سال کا عرصہ ہو گیا، صادقین کے انتقال کو مگر نہ ان کے مصوری کے نمونوں کا رنگ دھندلا ہوا ہے اور نہ ان پر وقت کی گرد جم سکی ہے۔ اور یہ تصاویر دھندلی ہو بھی نہیں سکتیں، اس لیے کہ انہوں نے اس میں اپنے خون جگر کی آمیزش کر دی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان میں تہہ در تہہ نئی معنویت پیدا ہوئی ہے اور جتنا وقت گزرے گا یہ معنویت اور بھی دبیز ہو جائے گی،کیوں کہ صادقین کا آرٹ وقت کے ہاتھوں زیر…
Read More