اظہارِ ذات کی شاعرہ…صائمہؔ اسحاق
یہ حقیقت ہے کہ ہر شاعر اپنے مطالعے کی بنیاد پر اپنے شعری سفرکو آگے بڑھاتا ہے۔ اِس سفر میں جو اُسے تلخ و شیریں تجربات اور عمیق مشاہدات ہوتے ہیں وہ اپنی شاعری کا حصہ بناتا ہے۔ یہ شاعر پر منحصر ہے کہ وہ کس فن کاری، چابک دستی اور ہنرمندی سے کارِ شاعری کو انجام دیتا ہے۔
صائمہ اسحاق ایک وسیع المطالعہ شخصیت ہیں۔ ہر شاعر اپنے مستند پیش روئوں سے کسی نہ کسی سطح ُپر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسلاف شعرا کی شاعرانہ خوبیاں اور اوصافِ شعری قاری کے ذہن میں راسخ ہوکر لاشعور میں چلے جاتے ہیں اور جب کوئی شاعر تخلیقاتِ شعر کے مراحل سے گزرتا ہے تو وہ لاشعور میں تخلیقات، تصورات اور نازک احساسات خیالی تصویر کی صورت اُس کے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں۔ صائمہ اسحاق نے ایک طویل عرصے تک میر تقی میر، مرزاغالب، علامہ اقبال، رفیع سودا، ابراہیم ذوق، مومن خان مومن، انشااللہ خان انشا، مصحفی، داغ دہلوی، آتش اور جرأت کو پڑھا ہے، یہی وجہ ہے کہ صائمہ اسحاق جان گئی ہیں کہ کلاسیک شاعری کیا ہوتی ہے ،وہ مطالعے کی مدد سے کلاسیک کی روح تک سے واقف ہوگئی ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں بھی باک نہیں کہ اُردو ادبِ عالیہ ان کے مزاجِ شاعرانہ میں سرایت کرگیا ہے۔ امیر مینائی، جلیل مانک پوری، بیخود دہلوی، حسرت موہانی، جگر مراد آبادی، اصغر گونڈوی، سیماب اکبر آبادی، شاد عظیم آبادی، یگانہ چنگیزی، فانی بدایونی کے عمیق مطالعے سے مشاعرہ موصوفہ نے فکری طور پر کسبِ فیض بھی کیا ہے اور ان کی شاعرانہ خوبیوں کی روشنی میں اپنی شاعری کو نکھارا بھی ہے۔
حمایت علی شاعر، جوش ملیح آبادی، فراق گورکھ پوری، احسان دانش، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، عزیز حامد مدنی، سلیم احمد، مجاز لکھنوی، خمار بارہ بنکوی، مجروح سلطان پوری، میرا جی، ن م راشد، علی سردار جعفری، جاں نثار اختر، محشر بدایونی، شکیل بدایونی، ساحر لدھیانوی ،قابل اجمیری، شکیب جلالی کی نظموں میں الفاظ کی بُنت اور خیالات کی آمیزش کو بھی اُنہوں نے ذہن نشین کرلیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی نظمیں ندرتِ خیال، تخیل کی بلند پروازی اور بُنت کے لحاظ سے قابلِ تعریف نظر آتی ہیں۔
متقدمین، متوسطین اور متاخرین کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے اپنے عہد کے شعرا کے کلام کا مطالعہ بھی کیا ہے۔ جن میں ظفر اقبال، صابر ظفر، سلیم کوثر، شبنم رومانی، محب عارفی، رئیس فروغ، رضی اختر شوق، صہبا اختر،جمال احسانی،لیاقت علی عاصم وغیرہ اور شاعرات میں پروین شاکر، ادا جعفری، زہرا نگاہ، شبنم شکیل ، یاسمین حمید، ڈاکٹرشاہین مفتی اور حمیرا رحمن کو بھی پڑھا ہے۔ شاعرات کے کلام کے مطالعے سے اُن کے یہاں نسوانیت کے اظہار کا سلیقہ آگیاہے۔ وہ جرأت مندانہ انداز میں عورت کے اندر جنم لینے والی خواہشات کا اظہار کرتی ہیں۔ صائمہ اسحاق ان شاعرات میں سے نہیں ہیں جو اپنے ارمان مار کر بیٹھ جاتی ہیں، اپنی خواہشات کا خون کردیتی ہیں، اپنی حسرتوں کا جنازہ اپنے کاندھے پر اُٹھا لیتی ہیں بلکہ وہ اُن شاعرات میں سے ہیں جو پروین شاکر کی طرح اپنے احساسات کا برملا اظہار کر دیتی ہیں۔ ادا جعفری کی طرح ہر بات کو مودبانہ انداز میں پیش کردینے کی کوشش کرتی ہیں۔ اسی لیے میں نے صائمہ اسحاق کو اظہارِ ذات کی شاعرہ قرار دیا ہے۔ وہ اپنی ذات کا برملااظہار کردیتی ہیں، اس سے مراد ہم شاعری میں انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی طور پر لیتے ہیں۔ مثا ل کے طور پر اگر اُنہوں نے کہا:
ہمارے رُخ پر جو رنگِ جمال ٹھہرا ہے
کسی کے حسنِ نظر کا کمال ٹھہرا ہے
تو اِس کا مطلب اجتماعی طور پر یہ ہوگا کہ ہر محبوب یہ بتانا چاہتا ہے کہ ہمارے چہرے پر جو تروتازگی ، رونق، دل کشی اور حسن و جمال ہے یہ ہمارے منظورِ نظر کا کمال ہے کہ اس کی نظر ہم پر ٹھہری تو رنگِ جمال آیا۔ جیسے گلشن میں بہار آتی ہے تو پھولوں پر جوبن اور کلیاں پر نکھار آجاتا ہے۔ محبوب کا نظر بھر کر دیکھنا بھی گلزارِ رخسار پر بہار کی مانند ہوتا ہے۔
صائمہ اسحاق اُسلوبِ تازہ کی شاعرہ ہیں، اُن کے اشعار میں زبان و بیان کے مرحلے سلجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے جذبات، احساسات اور فکرومشاہدات کو منظوم کرنے پر دست رس رکھتی ہیں۔ اُن کی شاعری شعری آہنگ بھی لیے ہوئے ہیں اور غنائیت و ترنم کا لبادہ بھی زیب تن کیے ہوئے ہے۔ اِس ضمن میں چند اشعار ملاحظہ ہوں:
مشاورت سے تری بام و در سنورتے تھے
جو تو نہیں ہے تو سارا مکان میلا ہے
٭
اِک اِسی بات پہ پھولے نہ سمائے ہم بھی
شکر صد شکر تمہیں یاد تو آئے ہم بھی
٭
جیت بھی ہماری ہے ہار بھی ہماری ہے
اب کی بار ہم نے بھی ایسا کھیل کھیلا ہے
ہر عقل مند مسافر، سفر اختیار کرنے سے پہلے زادِ سفر تیار کرتا ہے، اپنی منزل کا تعین کرکے سمت و راہ لیتا ہے اور پھر سفر اختیار کرتا ہے۔ جلد باز اور عجلت پسند مسافر ایک طویل مدت تک دشوار گزار راستوں سے گزر کر جب منزلِ مقصود پر پہنچتے ہیں تو اُنہیں احساس ہوتا ہے کہ یہ منزل تو ہماری منزل نہیں ہے ہمیں تو کہیں اور جانا تھا۔ سارا سفر بے کار ہوجاتا ہے۔
صائمہ اسحاق نے اپنے مزاج سے ہم آہنگ شاعری کی راہ متعین کی ہے اور وہ بالکل درست سمت میں سفر کررہی ہیں۔ اُن کے دو شعری مجموعے، ’’ حاصل‘‘ اور’’ رخت‘‘ کے عنوان سے شائع ہوچکے ہیں جن میں غزلیں اور نظمیں ہیں جو تازہ کاری سے پُر ہیں۔ ان کی نظمیں بھی جان دار ہیں مگر میرے خیال میں اُن کو غزل پر ہی تمام توجہ مرکوز رکھنا بہتر ہوگا کیوں کہ غزل میں اُن کا لہجہ اُن کی ہم عصر شاعرات سے ہٹ کر ہیں اور وہ جو کچھ کہہ رہی ہیں اُس کا بہ غور مطالعہ بتاتا ہے کہ قابلِ تعریف ہے۔ جس طرح ہم اگر کسی پینٹنگ کی نمائش میں جاتے ہیں تو ہر تصویر ہماری توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ہم اُنہیں بہ غور دیکھتے ہیں اور کبھی تو اُن کے رنگوں میں کھوجاتے ہیں اور کبھی اُن کے آرٹ میں ، کچھ تصویریں ہمیں اپنا گرویدہ کرلیتی ہیں اور ہم فن کار کے فن کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اِسی طرح صائمہ اسحاق کی شاعری پڑھتے ہیں تو وہاں مختلف غزلیں ہمارا دامنِ نظر اپنی طر ف کھینچی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔
کسی میں خیال کی ندرت، کسی میں تخیل کی بلند پروازی، کسی میں اچھوتا خیال اور کسی میں الفاظ و محاورات کا استعمال چونکا دیتا ہے۔ صائمہ اسحاق کے دونوں شعری مجموعوں میں شامل غزلیات اس بات کی گواہ ہیں کہ شاعرہ موصوفہ نے اِنہیں تازہ کاری، مسحور کن آب و ہوا اور دیدہ زیب رنگوں سے سجا کر اور قطع و برید کے بعد سنوار کر پیش کیا ہے۔ اُنہوںنے اپنے خیالات کو نیا جادہ بھی عطا کیا ہے اور اُن میں تازہ کاری کی روح بھی پھونکی ہے۔ اُنہوں نے اپنی شاعری کو اُسلوب کی جدت سے بھی آراستہ کیا ہے اور فکر و خیال کی گہرائی اور گیرائی سے بھی ہم کنار کیا ہے۔ ان کی شاعری Statement نہیں ہے، اکثر اُنہوں نے علامت و تجرید کا سہارا لیا ہے مگر زبان کی شائستگی اور لہجے کی شگفتگی کا ہاتھ کسی موڑ پر ہی نہیں چھوڑا۔ اُنہوں نے اپنے ماضی کی تلخ و شیریں یادوں کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایاہے اور حال کے مشاہدات کو بھی اشعار میں سمویا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمانۂ حال اپنی تمام تر رعنائیوں اور شعری تقاضوں کے ساتھ اُن کے کلام میں موجود ہے۔ اِس ضمن میں چند اشعار ملاحظہ ہوں:
پُل کی تعمیر ضروری ہے ہمارے مابین
تو بھی چاہے تو مرا ہاتھ بٹا لے آکر
٭
یہ کڑا وقت ملا دیتا ہے مٹی میں اَنا
کیسے کیسے سے مدد مانگنی پڑ جاتی ہے
٭
وہ شجر جس نے نمو پائی تھی دل کے اندر
بانجھ رُت سہہ کے ثمر بار ہوا ہے مجھ میں
صائمہ اسحاق نے ابھی سخن کا سفر اختیار کیا ہے۔ ابھی اُنہیں دشوار گزار راستوں سے بھی گزرنا ہے، سردو گرم سے آشنا ہونا ہے۔ پُرپیچ راہوں پر چلنا ہے۔ موسموں کے تغیرات کو سہنا ہے۔ آندھی اور طوفان کا مقابلہ کرنا ہے۔ مجھے یقین ہے وہ اگر اِسی طرح ثابت قدم رہی اور اُنہوں نے حوصلہ نہ رہارا تو وہ بہت جلد اپنی منزلِ مقصود پالیں گی۔
یہ پیشین گوئی میں اِس لیے کررہا ہوں کہ اُن کی شاعری میں حیات و کائنات کی حقیقی تصویریں نظر آتی ہیں۔ صائمہ اسحاق سچائی کی صورت گر ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُنہوں نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور زندگی کے نشیب و فراز سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اُن کی شاعری میں زندگی حرکت کرتی محسوس ہوتی ہے۔ صائمہ اسحاق کسی نظریے کے تحت شاعری نہیں کرتیں، وہ ایک آزاد فکرونظر کی حامل شاعرہ ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی نظریے کے تحت کی گئی شاعری کبھی بڑی شاعری نہیں ہوتی۔ اُن کے یہاں نسوانیت کا اظہار بھی ملتا ہے اور ارمان، خواہش اور حسرتوں کا بیان بھی شدت سے محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی شاعری میں ہر قسم کے قاری کی پسند کی گونج سنائی دیتی ہے اور ہر قاری اُن کی شاعری کو پسند کرنے لگا ہے، اُن کے مداحین میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ چند اشعار مزید ملاحظہ فرمائیں:
میری دنیا سے سیاہی کا گلہ تھا اُس کو
میرا سورج تو سوا نیزے پہ آنے دیتا
٭
اب مجھے ہارنا ہو گا کہ مرے دشمن نے
اپنے ہتھیار مری شان میں رکھ چھوڑے ہیں
٭
آج ثابت بھی کرے صائمہؔ اپنا ہونا
مار ڈالا ہے تو چھائوں میں بھی ڈالے آکر
راہِ سخن انتہائی دشوارگزار اور پُرکٹھن ہے۔ یہاں دشمنوں سے زیادہ اپنوں سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ ہر تخلیق کار کے ساتھ خلّاقِ کائنات ہوتا ہے، وہ کسی کی بھی تخلیق کو رُسوا نہیں ہونے دیتا، کیوں کہ وہ خود تخلیق کار ہے لہٰذا صائمہ اسحاق کو اُسی پر بھروسا کرکے شاعری کا سفر تسلسل سے جاری رکھنا ہو گا،تبھی وہ اپنی کاوشِ سخن کا پودا تناورشجر بنا سکتی ہیں اور اُس کا سایہ اور اثمار پا سکتی ہیں۔
۰۰۰
(تنقید نگار: شاعر علی شاعر (کراچی)
