فرہاد احمد فگار ۔۔۔ اردو نظم :ایک مضبوط روایت

اردو نظم نگاری کی باقاعدہ ابتدا تو سید ولی محمد نظیر اکبر آبادی سے ہوگئی تھی لیکن یہ صنف انجمن پنجاب کے قیام کے بعد زیادہ ثروت مند ہوئی۔ بیس ویں صدی کے آغاز اور سرسید احمد خان کی تحریکِ علی گڑھ سے قبل نظیر ہی ایک ایسا نام تھا جس نے اردو نظم کی صورت میں اردو ادب میں اضافہ کیا۔ وہ ایک ایسا شاعر تھا جس نے اپنی نظم کے ذریعے وہ الفاظ و تراکیب بھی اردو ادب کے دامن میں بھر دیں جن سے پہلے اردو شاعری…

Read More

ڈاکٹر محمد جلیل اقبال خاکی ۔۔۔ جدید اردو نظم : مختصر تعارف

جدید اردو نظم مختصر تعارف شعر انسان کی تہذیبی  و معاشرتی  زندگی کے تجربات کا مرقع ہوتا ہے،ان ہی تجربات اور افکار کی روشنی میں جب کوئی تخلیق وجود میں آتی ہے تو وہ شاعری کا روپ اختیار کرتی ہے ۔ذہنی و فکری اور معاشرتی زندگی کا تنوع  زبان و ادب میں تنوع اور رنگا رنگی کی وجہ بھی، بائیں ہمہ شعر کے اندر بھی رفتار  زمانہ  اور انقلاب احوال کے  ساتھ تنوع  اور رنگا رنگی نیز جدت طرازی دیکھنے کو ملی،گویا شعرکو بھی ارتقائی ادوار سے گزرنا پڑاہے۔اس ارتقائی…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ قطعہ

یہ مانا برق کے شعلے مرا گھر پھونک کر جاتے مگر کچھ حادثے پھولوں کے اوپر بھی گزر جاتے مرے کہنے سے گر اے ہم قفس خاموش ہو جاتا نہ تیرے بال و پَر جاتے نہ میرے بال و پر جاتے

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ مجھ پر ہے یہ نزع کا عالم اور

مجھ پر ہے یہ نزع کا عالم اور پھر سوچ لو باقی تو نہیں کوئی ستم اور ہے وعدہ خلافی کے علاوہ بھی ستم اور گر تم نہ خفا ہو تو بتا دیں تمھیں ہم اور یہ مئے ہے ذرا سوچ لے اے شیخِ حرم اور تو پہلے پہل پیتا ہے کم اور ارے کم اور وہ پوچھتے ہیں دیکھئے یہ طرفہ ستم اور کس کس نے ستایا ہے تجھے ایک تو ہم اور وہ دیکھ لو احباب لیے جاتے ہیں میت لو کھاؤ مریضِ غم فرقت کی قسم اور…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ ڈھونڈنے پر بھی نہ دل پایا گیا

ڈھونڈنے پر بھی نہ دل پایا گیا سوچتا ہوں کون کون آیا گیا بت کے میں نے مدتوں کھائے فریب بارہا کعبہ میں بہکایا گیا ناصحا میں یہ نا سمجھا آج تک کیا سمجھ کر مجھ کو سمجھایا گیا

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔

داستاں اوراقِ گل پر تھی مجھی ناشاد کی بلبلوں نے عمر بھر میری کہانی یاد کی مجھ سے روٹھا ہے خودی دیکھو بتِ جلاد کی مدعا یہ ہے کہ کیوں اللہ سے فریاد کی قبر ٹھوکر سے مٹا دی عاشقِ ناشاد کی یہ بھی اک تاریخ تھی ظالم تری بیداد کی کیا ملے دیکھیں اسیروں کو سزا فریاد کی آج کچھ بدلی ہوئی سی ہے نظر صیاد کی رات میں بلبل تجھے سوجھی تو ہے فریاد کی آنکھ سوتے سے نہ کھل جائے کہیں صیاد کی آگیا ان کو رحم…

Read More