سعادت حسن منٹو ۔۔۔ الو کا پٹھا

الو کا پٹھا قاسم صبح سات بجے لحاف سے نکلا اور غسل خانے کی طرف چلا۔ راستے میں، یہ اس کو ٹھیک طور پر معلوم نہیں، سونے والے کمرے میں، صحن میں یا غسل خانے کے اندر اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ کسی کو ’’اُلو کا پٹھا‘‘ کہے۔ بس صرف ایک بار غصے میں یا طنزیہ انداز میں کسی کو ’’اُلو کا پٹھا‘‘ کہہ دے۔ قاسم کے دل میں اس سے پہلے کئی بار بڑی بڑی انوکھی خواہشیں پیدا ہو چکی تھیں مگر یہ خواہش…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر

کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر اب اور اپنے آپ کو مت پائمال کر مرنے کے ڈر سے اور کہاں تک جیے گا تو جینے کے دن تمام ہوئے، انتقال کر اک یاد رہ گئی ہے مگر وہ بھی کم نہیں اک درد رہ گیا ہے سو رکھنا سنبھال کر دیکھا تو سب کے سر پہ گناہوں کا بوجھ تھا خوش تھے تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر خواجہ کے در سے کوئی بھی خالی نہیں گیا آیا ہے اتنے دور تو علوی سوال کر

Read More

صوفی تبسم ۔۔۔ ہر ذرہ اُبھر کے کہہ رہا ہے

ہر ذرہ اُبھر کے کہہ رہا ہے آ دیکھ، ادھر یہاں خدا ہے اِس چرخ کو پیس ڈالتا میں افسوس کہ یار بے وفا ہے مرتا تری کج ادائیوں پر لیکن وہ خمار اُتر گیا ہے میں مہر و وفا کی انتہا ہوں تو جور و جفا کی انتہا ہے عشاق کی روح کانپتی ہے جب آئنہ کوئی دیکھتا ہے یہ کفر نوازیٔ تبسم کافر کسی بت پہ مبتلا ہے

Read More

آلِ احمد سرور ۔۔۔ نقادوں سے دس سوال

نقادوں سے دس سوال (۱) تنقیدی نگاری سے آپ کامقصد ادب کی تاریخ کو مرتب کرنا ہے یا ہم عصر اَدَب پر اثرانداز ہونا؟ (۲) کیا آپ کی دانست میں آپ کی تنقید سے ہم عصر ادب کو کوئی فائدہ پہنچا ہے؟ اور کیا ہم عصر لکھنے والوں نے کسی طور پر آپ کی تنقیدی فکر سے اثر قبول کیا ہے؟ (۳) آپ گزشتہ ادب کے بارے میں کیوں لکھتے ہیں؟ (۴) ہم عصروں پر لکھنے میں کبھی جھجک محسوس ہوئی ہے؟ ہوئی ہے تو کیوں؟ (۵) اگر تقسیم کے…

Read More