خول چہروں پہ چڑھانے نہیں آتے ہم کو گاؤں کے لوگ ہیں ہم شہر میں کم آتے ہیں
Read MoreTag: بے دل حیدری
بیدل حیدری
ہو گیا چرخِ ستم گر کا کلیجا ٹھنڈا مر گئے پیاس سے دریا کے کنارے بچے
Read Moreبیدل حیدری
گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا
Read Moreبیدل حیدری
پانی کی ایک بوند سی کھڑکی سے گر پڑی اب کے کمال سایہء دیوار کر گیا
Read More