بھوک پیچھے پڑ گئی ہے ہاتھ دھو کر اور بھی پیٹ سے باندھو مرے دو چار پتھر اور بھی
Read MoreTag: بیدل حیدری
بیدل حیدری
بیدل مجھ میں یہ جو ایک کمی سی ہے وہ چاہے تو پوری بھی ہو سکتی ہے
Read Moreبیدل حیدری
خول چہروں پہ چڑھانے نہیں آتے ہم کو گاؤں کے لوگ ہیں ہم شہر میں کم آتے ہیں
Read Moreبیدل حیدری
ہو گیا چرخِ ستم گر کا کلیجا ٹھنڈا مر گئے پیاس سے دریا کے کنارے بچے
Read Moreبیدل حیدری
گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا
Read Moreبیدل حیدری
مجھ سے چلے ہیں خون چھڑکنے کے سلسلے میں دشت میں بہار کا پہلا سفیر تھا
Read Moreبیدل حیدری ۔۔۔ خزاں
خزاں ۔۔۔۔ گرد اُڑاتی ہوئی خزائوں کے سر پہ وحشت کا بھوت طاری ہے سوکھے پتوں کا رقص جاری ہے فاختائیں اداس بیٹھی ہیں جو بھی شاخِ چمن ہے، ننگی ہے سارے گلشن میں خانہ جنگی ہے چہرہ اُترا ہوا ہے لمحوں کا چل رہی ہے ہوائے یرقانی رقص کرتی ہے خانہ ویرانی کہیں سبزہ نظر نہیں آتا یعنی کھا کھا کے زیست کے غم کو پیلیا ہو گیا ہے موسم کو ساتھیو!وقت کی رگ و پَے میں اپنے جسموں کا خونِ تازہ بھرو اس خزاں کا کوئی علاج کرو…
Read Moreبیدل حیدری
پانی کی ایک بوند سی کھڑکی سے گر پڑی اب کے کمال سایہء دیوار کر گیا
Read More