بھوک پیچھے پڑ گئی ہے ہاتھ دھو کر اور بھی پیٹ سے باندھو مرے دو چار پتھر اور بھی
Read MoreTag: Baidil Haidri
بیدل حیدری
بیدل مجھ میں یہ جو ایک کمی سی ہے وہ چاہے تو پوری بھی ہو سکتی ہے
Read Moreبیدل حیدری ۔۔۔ خزاں
خزاں ۔۔۔۔ گرد اُڑاتی ہوئی خزائوں کے سر پہ وحشت کا بھوت طاری ہے سوکھے پتوں کا رقص جاری ہے فاختائیں اداس بیٹھی ہیں جو بھی شاخِ چمن ہے، ننگی ہے سارے گلشن میں خانہ جنگی ہے چہرہ اُترا ہوا ہے لمحوں کا چل رہی ہے ہوائے یرقانی رقص کرتی ہے خانہ ویرانی کہیں سبزہ نظر نہیں آتا یعنی کھا کھا کے زیست کے غم کو پیلیا ہو گیا ہے موسم کو ساتھیو!وقت کی رگ و پَے میں اپنے جسموں کا خونِ تازہ بھرو اس خزاں کا کوئی علاج کرو…
Read More