پڑے ہوئے تھے جو ہم تیرے نقشِ پا کے ساتھ
بکھر گئے ہیں کسی اجنبی ندا کے ساتھ
ترا سوال میں اس سے کروں تو کیسے کروں
مکالمہ بھی نہیں ہے مرا خدا کے ساتھ
یہ دیکھتے ہی منڈیروں کے خواب ٹوٹ گئے
مرے چراغ جو بجھنے لگے ہوا کے ساتھ
گئے زمانوں سے مجھ کو پکارنے والے
میں خود بھی ڈوب چلا ہوں تری صدا کے ساتھ
رواں ہیں کشتیاں صبحِ مراد کی جانب
الجھ رہے ہیں مرے بادباں ہوا کے ساتھ
