رشید آفرین … مِری سوچوں میں کیسی بے کلی ہے

مِری سوچوں میں کیسی بے کلی ہے
مِرے خوابوں پہ چھائی بے دلی ہے

طلسماتی فضا میں میری حسرت
بنا جھولے کے جھولا جھولتی ہے

اِدھر دھرتی کا ہے بے رنگ سبزہ
حسیں پھولوں کی رنگت بھی اُڑی ہے

سجیلی مچھلیاں بھی دربدَر ہیں
ادا لہروں کی یکسر اجنبی ہے

لہو کا رقص ہے رگ رگ میں جاری
خدا جانے یہ کیسی ساحری ہے

ہلاہل تیرتا ہے پانیوں پر
قضا اُوڑھے ہوئے گویا ندی ہے

لرزتے ہیں سبھی کوہ و دمن بھی
گھڑی جو آئے گی وہ منتہی ہے

سبھی منظر نڈھال و مضطرب ہیں
پسِ منظر قیامت جھانکتی ہے

کسی کو آفریں لَے بھائے کیسے
لبوں پر جب انوکھی بانسری ہے

Related posts

Leave a Comment