شوکت محمود شوکت ۔۔۔ کوئی اچھا دکھائی دیتا ہے

کوئی اچھا دکھائی دیتا ہے
عشق ہوتا دکھائی دیتا ہے

فصلِ گُل میں سب ایسے ویسوں کو
ایسا ویسا دکھائی دیتا ہے

کاش! تم بھی اُسی طرح دیکھو
ہم کو جیسا دکھائی دیتا ہے

دل کی حالت کا تذکرہ کیسا
دل شکستہ دکھائی دیتا ہے

سچ تو یہ ہے کہ یہ جہاں سارا
ایک دھوکا دکھائی دیتا ہے

ہار بیٹھا ہے عشق کی بازی
وہ جو اُجڑا دکھائی دیتا ہے

سوئے شوکت نظر ہوئی ، تو کہا
یہ تو اپنا دکھائی دیتا ہے

Related posts

Leave a Comment