یہ حرف و لفظ کی کشتی، یہ آب کاغذ پر
بناتا رہتا ہوں اب تو سراب کاغذ پر
مہک اُٹھی تری خوشبو سے رات تنہائی
جو تیرے نام کا لکھا گلاب، کاغذ پر
عجیب طرح کی تعبیر دوست کھینچتے ہیں
کبھی جو بُنتا ہوں دو چار خواب کاغذ پر
دکاں لگاتا ہوں زخموں کی جب بھی رات گئے
اُترنے لگتے ہیں پھر ماہتاب کاغذ پر
ترے جمال کی تصویر بن نہیں پاتی
لکھے پڑے ہیں کئی انتساب کاغذ پر
اُدھار تیری کہانی کا بھی چُکا لوں گا
میں نقدِ جاں کا تو کر لوں حساب کاغذ پر
کہاں سے لاؤں گواہ و وکیل و محضر، میں
کہ بات دل کی ہوئی کب جناب کاغذ پر
