ادھورا جسم لیے پیچھے ہٹ رہا ہوں میں
کہ اک کنارا ہوں دریا کا کٹ رہا ہوں میں
Related posts
-
راحت اندوری
بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ... -
-
