توقیر عباس ۔۔۔ اس غم کے لیے چاہیے گھر اور مکاں اور

اس غم کے لیے چاہیے گھر اور مکاں اور
یہ تیر ہے وہ جس کی ضرورت ہے کماں اور

آیا ہے صفِ سیدِ ابرار میں جب سے
اب حر کی ادا اور ہے اندازِ بیاں اور

عاشورۂ غم ذہنوں پہ طاری ہے ابھی سے
مقصودِ بیاں اور ہے ہوتا ہے عیاں اور

معصوم تبسم کہ جواں سینۂ شبٌاں
مطلوب ہے اس کے لیے اندازِ بیاں اور

اس دہر میں جس شخص نے کی بیعتِ باطل
اس سود کے سودے میں سراسر ہے زیاں اور

ہر ایک رجز سے سرِ میداں یہ عیاں تھا
پھولوں کی زبان اور ہے کانٹوں کی زباں اور

اک اشک نہ آلودۂ دنیا نظر آئے
رہتا ہے کوئی آنکھ پہ غم کا نگراں اور

اک آتشِ خاموش کہ آنکھوں سے رواں ہے
جب جب بھی بجھائی تو ہوئی شعلہ فشاں اور

معیار کسی طور بھی یکساں نہیں رکھتا
انداز زمانے کا یہاں اور وہاں اور

گونجی ہے سماعت میں جو اس کا ہے الگ رنگ
آنکھوں نے سنائی ہے مجھے کوئی ازاں اور

ہے ہیزمِ مرطوب کا توقیر سلگنا
نوحے کے لیے چاہیے اندازِ فغاں اور

Related posts

Leave a Comment