جُھکے گا ظُلم کا پرچم ، یقِین آج بھی ہے
مِرے خیال کی دُنیا حَسِین آج بھی ہے
بہت ہَوائیں چلِیں میرا رُخ بدلنے کو
مگر نِگاہ میں وُہ سر زمین آج بھی ہے
صعوبتوں کے سفر میں ہے کاروانِ حُسینؑ
یزید چین سے ، مسند نشِین آج بھی ہے
جُھکے گا ظُلم کا پرچم ، یقِین آج بھی ہے
مِرے خیال کی دُنیا حَسِین آج بھی ہے
بہت ہَوائیں چلِیں میرا رُخ بدلنے کو
مگر نِگاہ میں وُہ سر زمین آج بھی ہے
صعوبتوں کے سفر میں ہے کاروانِ حُسینؑ
یزید چین سے ، مسند نشِین آج بھی ہے