سعید شارق ۔۔۔ پونچھے نہ تھےجو مَیں نے کبھی اُس کے گال سے

پونچھے نہ تھےجو مَیں نے کبھی اُس کے گال سے
وہ اشک رِستے رہتے ہیں اب میری شال سے
 
آندھی کی طرح نیند کی موج آئی میری سمت
ایک ایک کر کے خواب جھڑے ڈال ڈال سے
 
بُھولے سے مِلنے والی خوشی چِیر دے نہ دل!
مچھلی نکل نہ جائے کہیں خستہ جال سے!
 
اک روز ہاتھ لگ گئے یادوں بھرے جہاز
کیسا خزانہ مل گیا بحرِ ملال سے!
 
کیوں آ گیا ہے پھر تجھے پیچھے دھکیل کر
لڑتا رہا مَیں آج بھی کس کس خیال سے!
 
جُوں جُوں چمک بڑھی مِری تُوں تُوں کسک بڑھی
آخر مَیں ٹُوٹ پُھوٹ گیا دیکھ بھال سے*
 
اب تک مِلا نہ قریۂ فردا کا راستہ
نکلا تھا بھاگ کر مَیں کبھی، شہرِ حال سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*مستفاد از سیماب اکبر آبادی

Related posts

Leave a Comment